نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج :غالب اکیڈمی کے چہار روزہ تقریبات کے تحت چوتھے دن ریسرچ اسکالر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سیمینار سے قبل غالب کے157ویں ویوم وفات پر مزار غالب پر فاتحہ خوانی کی گئی۔ اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں کل ہند ریسرچ اسکالر سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر شہپر رسول نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ریسرچ اسکالر کو اپنی صلاحیت کے اظہار کا موقع کم ملتا ہے۔نئی نسل اپنی توقعات پر پورا اتر رہی ہے۔دنیا کی تمام زبانوں میں غالب پر لکھا گیا ہے۔ڈیجیٹل میڈیا سے غالب کی شہرت میں اضافہ ہوا ہے۔ غالب نے اپنی شاعری میں سوالات قائم کئے۔غالب کی شاعری نے اردو شاعری کو انتہا تک پہنچایا۔ انہوں نے پڑھے گئے مقالات کی ستائش کی اور کار آمد مشورے بھی دیے۔غالب اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر جی آر کنول نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دنیا رہے گی غالب رہیں گے۔اردو آج ریسرچ اسکالر کی وجہ سے زندہ ہے۔ ریسرچ اسکالر نے مقالے پڑھ کر اردو کو زندہ تر کردیا۔ انگریزی میں غالب پر بہت پہلے سے لکھا جا تارہا ہے اور اب تک لکھا جا رہا ہے۔ اردو ہندوستان کی زبان ہے اور ہمیشہ رہے گی۔پہلا مقالہ دہلی یونیورسٹی کے محمد اشرف نے غالب کے یک موضوعی اشعار کے عنوان سے پڑھا۔انہوں نے کہا کہ غالب کے اشعار سن کر قاری کبھی حظ اٹھاتا ہے تو کبھی غمگین ہوجاتا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی عذرا انجم نے مرزا غالب اور ان کے معاصر شاعرات پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ غالب کے زمانے میں شاعرات اپنا نام پوشیدہ رکھ کر شاعری کرتی تھیں۔ عفت دہلوی،ضیا دہلوی،اختر دہلوی کا نام غالب کی معاصر شاعرات میں شامل ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسداللہ نے غلام رسول مہر کی شرح نوائے سروش کو اپنے مقالے کا عنوان بنایا۔غلام رسول مہر نے اپنے متعدد میں شرحوں سے استفادہ کرکے شرح لکھی تھی۔ مولانا آزاد نہرو یونیورسٹی،لکھنؤ کیمپس کے مجتبیٰ حسن صدیقی نے رباعیات غالب پر مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ رباعیات میں بادشاہ کی مدح لکھی جس کا لہجہ خوشامدانہ ہے۔ رباعیات میں غالب نے عہد شباب کی آرزو،اہم فکری فلسفیانہ روایت کو قلمبند کیا ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مصطفی علی نے جام سفال کا غالب کے عنوان سے اپنے مقالے میں کہا کہ جام سفال ایک سماجی اور تہذیبی شعور کا نچوڑ ہے۔دہلی یونیورسٹی کے محمد رضوان نے جدید فکر کا معمار کے عنوان سے مقالہ پیش کیا اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی شازیہ کوثر نے غالب کے خطوط میں ہندوستانی عناصر کے عنوان سے مقالہ پڑھا۔












