چھوٹا بچہ جب گھر میں اپنے بڑوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی ویسا کرنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ وہ بغیر کہے مصلے کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے، رکوع وسجود کی نقل اتارتا ہے، بالکل سنجیدگی کے ساتھ ویسا ہی کرتا ہے جیسا وہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے ابو کو مسجد جاتے دیکھتا ہے تو وہ بھی چاہتا ہے کہ میں ان کے ساتھ وہاں جائوںاور بغیر کہے وہ پیچھے پیچھے مسجد چلا جاتا ہے، کبھی گھر سے کوئی نہ بھی جائے تو وہ خود مسجد پہنچ جاتا ہے، وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہاں آخر لوگ کیا کرتے ہیں؟ یہاں لوگ جمع کیوںہوتے ہیں؟ وہ مسجد تو آتا ہے لیکن اسے مسجد کے آداب کا علم نہیں ہوتا، وہ یہاں بھی گھر کی طرح دوڑتا بھاگتا ہے اور شرارتیں کرتا ہے، کبھی اس صفف میں جاتا ہے، کبھی دوسری صف میں، کبھی وضو خانے کی طرف آکر دوسروں کی طرح منھ ہاتھ دھوتا ہے، کبھی نل کھول کر کافی دیر تک ہاتھ پائوں دھوتا رہتا ہے کیونکہ اسے ایسا کرنے میں مزہ آتا ہے، اسے اچھا لگتا ہے، وہ بھی دوسروں کی طرح بڑے بڑے کام کرنا چاہتا ہے اور وہ ان تمام کاموںمیںبالکل سنجیدہ ہوتا ہے، دل سے کرتا ہے، اپنی طرف سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دل میںخوشی محسوس کرتا ہے۔ لیکن جب کوئی بزرگ اسے وضو خانے پر آخر جھڑکتے ہیں ، اوئے ادھر کیا کررہے ہو ؟ اتنی دیر پانی کیوں ضائع کررہے ہو؟ چلو اٹھواور پھر اسے وہاں سے ہٹادیتے ہیں۔ بعض مسجد کے بزرگ تو بچوں کو دیکھتے ہی ان کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور جب تک وہ مسجد سے نکل نہیں جاتے یا ان کی مرضی کے مطابق ٹک کر نہیں بیٹھتے انہیں چین نہیں آتا۔ کچھ نمازے تو ایسے بھی ہیں کہ بچے کو دیکھ کر غصے میں آجاتے ہیں، پہلی صف میں بیٹھا دیکھا تو قمیض سے پکڑ کر پیچھے کر دیتے ہیں، کسی بچے کو باتیں کرتے دیکھا تو ایک تھپڑ لگادیتے ہیںاور کہتے ہیں کہ بد تمیز یہ مسجد چپ کرو۔ جہاں دو تین بچوں کو باتیں کرتے یا ہنستے ہوئے دیکھا تو فوراًمسجد سے نکال دیتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے مسجد کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ وہ قرآن پکڑتے ہیںتو چھین لیا جاتا ہے کہ چھوٹا بچہ ہے قرآن مجید کو پھاڑ دیگا، کوئی بچہ صاف ستھرا نہیں تب بھی اسے دکھے دیکر مسجد کے دروازے پر کردیا جاتا ہے۔ کچھ صاحب بچے کی حرکتوں پر انہیں گھورتے ہیں ، منھ بناتے ہیںاور باتیں سناتے ہیں۔ اگر اے سی والی مسجد ہے تو ہال سے نکال کر گرم صحن میں بھیج دیتے ہیں۔ ان سب درشت رویوں، گرم لہجوں، سخت غصے والے مزاجوں، ڈانٹنے ڈپٹنے اور مارنے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ انہیں گھورنے ، مارنے ، دوڑانے اور گھسیٹنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟کہ ہماری مسجدیں خالی رہتی ہیں۔ انہیں بچے نے تو کل جوان ہوکر پختہ نمازی بننا تھالیکن افسوس ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھاجائیں۔ دوسرا سبب مساجد کے قاری صاحبان جن کے پاس بچے سپارہ، قاعدہ پڑھنے آتے ہیں، اب یہاں بھی نظم وضبط کا عظیم مسئلہ سامنا آجاتا ہے۔ کسی بچے کی نماز پڑھنے میں غلطی نکلی نہیں کہ ڈنڈا، مکااور چپت اس کے جسم پر لگی نہیں، خوف اور جبر کا ماحول ہر غلطی پر سزا، سبق یاد نہ ہونے پر بے عزتی اور مار پٹائی کردیتے ہیں، ایسے قاریوں اور نمازیوں کے ان رویوں نے مساجد کو بے رونق کررکھا ہے۔
قارئین محترم ! رسول اکرمﷺ کے دور میں کیا ہوتا تھا؟ مسجد نبویؐ میںکیا صورتحال تھی ؟ بچے تو ہر دور میں شرارتی رہے۔ بھاگنے، دوڑنے، باتیں کرنے، اچھلنے کودنے والے، ابھی انہیں کیا پتا کہ مسجد کے آداب کیا ہیں؟ مسجد میں آتے جاتے رہینگے، نمازیوں کو دیکھتے رہینگے تو آہستہ آہستہ سیکھ جائینگے کہ مسجد میں کس طرح رہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے دور میں بھی بچے ایسے ہی کیا کرتے تھے، کبھی اس صف میں دوڑ ، کبھی اس صف میں دوڑ ، کبھی منبر پر چڑھ گئے، کبھی رونے لگے، کبھی کچھ کبھی کچھ ، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپﷺ نماز مختصر کردیا کرتے تھے لیکن یہ کبھی نہیں کہتے تھے کہ کوئی بھی اپنے بچے کو مسجد میں نہ لائے، اس سے ہماری نمازیں خراب ہوتی ہے۔ کیا ہماری نمازوں کا خشوع وخضوع صحابہ کرامؓ کی نمازوں سے زیادہ ہے جو کسی بچے کی آواز پر فوراً خراب ہوجاتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم جوں جوں پہلی دوسری صف کے پختہ نمازی بنتے ہیں ہمارا مزاج اتنا ہی سخت ہوتا چلا جاتا ہے، اتنا ہی تکبر آجاتا ہے، مزاج گرم ہوجاتا ہے، یہ کیسی عبادت ہے؟ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم بچوں کو مساجد میں آنے کی ترغیب دیں، کوئی بچہ مسجد آئے تو اس کا استقبال کریں، اسے گلے سے لگائیں، اسے بوسہ دیں، اسے اتنی محبت ، اتنا پیار اتنی عزت واحترام دیں کہ اسے لگے کہ دنیا میں اس سے بہترین جگہ کوئی نہیں ہے۔ بچوں کی شرارتوں کو نظر انداز کریںبلکہ غصے کے بجائے مسکرائیں اور انہیں دیکھ کر اپنے بچپن کو یاد کریںکہ ہم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ بچے شیطان نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی نشانیوںمیںایک نشانی ہوتے ہیں ، معصوم ہوتے ہیں، گناہوں سے پاک ہوتے ہیںلیکن نہ تجربہ کار ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ کر سیکھنا چاہتے ہیں ، وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، اگر وہ بچپن ہی سے مساجد سے جڑینگے تو کل زندگی میں کسی بھی شعبے میں جائینگے تو مساجد کو اعلیٰ مقام دینگے، مساجد کے اماموں، قاریوں کو عزت دینگے، علما کرام کا احترام کرینگے بلکہ خود بھی عالم بنیگے۔
ذرا سوچیں جب ایک اسکول اپنے کاروبار کیلئے ٹھائی تین سال کے بچے کو برداشت کرتا ہے، انہیں ہر صورت صاف ستھرا رکھتا ہے اور اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ تمام تکالیف کے باوجود بھی زیادہ سے زیادہ بچے اسکول آئیںاور یہی وجہ ہے کہ اسکول بچوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اگر ہم لوگ بھی بچوں کو مساجد میں بے پناہ محبت دینے کا عزم کرلیں، اپنے رویوںمیںتبدیلی لے آئیںتو یہ ہماری آئندہ نسل کو نمازی بنانے کیلئے اتنا ضروری ہے جتنا زور ہم تعلیم کے حصول پر لگارہے ہیں۔ مائیں اسکول کی طرح ہی اگر بچوں کو اہتمام کے ساتھ تیار کرکے مسجد بھیجیں، نمازی حضرات جیب میں ٹافی، بسکٹ، چاکلیٹ، یا پانچ دس روپئے لیکر آئیںاور کوئی بچہ مسجد میں نظر آئے تو اسے پیار سے بٹھائیں ٹافی یا پیسے دیکر محبت کا احساس دلائیںاور اس کی نماز میں کوتاہیوںپر نہایت پیارے الفاظ میں نشاندہی کریں کہ بیٹا یہ مسجد ہے، یہ اللہ کا گھر ہے، یہاں اونچا نہیں بولتے، یہاں شور نہیں کرتے، یہاں عبادت کی جاتی ہے، یہاں ہم اللہ کے حضور حاضر ہوتے ہیں، یہاں دوڑنا نہیں چاہئے، یہاں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی جاتی ہے، یہاں صاف ستھرا ہوکر آنا چاہئے، کل آپ صاف کپڑے پہن کر آنا آپ کو پیسے بھی ملینگے اور چاکلیٹ بھی۔ ان خوبصورت الفاظ سے ہم بچوں کو دل موہ سکتے ہیں، اگر مسجد میں بچوں کو محبت ملے گی تو وہ تادم آخر مسجد سے محبت کرنے والے ہونگے۔ اگر آج ہماری مسجدوںمیں دورانِ نماز پیچھے بچوں کی معصوم شرارتوں کی آوازیںنہ آرہی ہوںتو یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔












