• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, فروری 18, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

اپنے دل کو اس قابل بنالیجیے کہ اللہ کا مہمان اس میں قیام کرسکے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 18, 2026
0 0
A A
اپنے دل کو اس قابل بنالیجیے کہ اللہ کا مہمان اس میں قیام کرسکے
Share on FacebookShare on Twitter

اللہ کا شکر ہے کہ رمضان کا مبارک مہینہ ایک بار پھر ہماری زندگی میں آنے والاہے ۔اللہ کے رسول ﷺرمضان کی آمد سے پہلے ہی شعبان کے مہینے میں رمضان کے استقبال کی تیاریاں فرماتے تھے،آپ کی نفل عبادات میں اضافہ ہوجاتا تھا،اللہ کے حضور گریہ و زاری بڑھ جاتی تھی،آپ ؐبار بار صحابہ کرام ؓکے سامنے ماہ رمضان کی فضیلتیں بیان فرماتے تھے اور ان کو اس ماہ مبارک کے استقبال کی طرف متوجہ فرماتے تھے ۔
اللہ کی برکتیں اور رحمتیں اسی دل پر نازل ہوتی ہیں جو دل صاف ستھرا ہوتاہے ،برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔جس طرح ہم کسی مہمان کے آنے پر اپنے گھر کی صفائی ستھرائی کرتے ہیں ،اللہ کا یہ مہمان ہمارے دل میں قیام کرے گا اس لیے ہمیں اپنے دل کی صفائی ستھرائی کرنی چاہئے۔دل کی گندگی کیا ہے؟ دل کی گندگی،ہمارے وہ گناہ ہیں جو ہم سے بھول چوک یا جان بوجھ کر ہوجاتے ہیں ۔اس مبارک مہینے کے آنے پر ہمیں اپنے دل کو گناہوں سے پاک کرلینا چاہیے۔اس لیے کہ جس دل میں گندگی ہوتی ہے اس دل پر نہ اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ،نہ وہ دل اس مبارک مہینے کے قیام کے قابل ہوتا ہے ،اور نہ ہی اس مہینے کی برکتوں سے فیض یاب ہوسکتا ہے۔آئیے ہم بھی اپنے دل کو اس قابل بنالیں کہ اللہ کا یہ مہمان ہمارے دل میں قیام کرسکے،اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہمارے دلوں پر نازل ہوسکیں،اور یہی تزکیہ ہے ۔ رسول اللہ ﷺکی بعثت کا بھی یہی مقصد قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے:
’’وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انہیں میں سے مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، اور بے شک وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘ (الجمعہ2)
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دلوں کے تزکیہ کے بعد ہی اللہ کی آیات سے فائدہ ہوسکتا ہے ،اس لیے کہ اس آیت میں اللہ کے نبی ﷺ کے بارے میں یہ فرمایا گیا کہ یہ رسول انھیں قرآن کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے پھر انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے ۔ہمارے گھر ایک عورت دودھ دینے آیا کرتی تھی ، ایک دن وہ دودھ پھٹ گیا یعنی خراب ہوگیا ۔دوسرے دن میری والدہ نے اس سے شکایت کی کہ تمہارا لایا ہوادودھ پھٹ گیا ۔اس نے کہا کہ میں تو تازہ دودھ لائی تھی ،کیسے پھٹ گیا تم نے اپنا برتن ٹھیک سے صاف نہیں کیا ہوگا اس لیے پھٹ گیا؟میں آج جب اس واقعہ پر غور کرتا ہوں کہ دودھ جیسی نفیس ،عمدہ چیز جب یہ گوارانہیں کرتی کہ وہ جس برتن میں ہواس برتن میں ذرا سی بھی گندگی ہو تو اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں کیسے یہ گوارا کرسکتی ہیں کہ وہ کسی ناپاک،نجس،گناہوں سے آلودہ دل پرنازل ہوں۔دودھ کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ، نُّسْقِیکُم مِّمَّا فِی بُطُونِہٖ مِن بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِّلشَّارِبِینَ (النحل۶۶)
’’اور بے شک تمہارے لیے چوپایوں کے سلسلہ میں سوچنے کا مقام ہے، ہم ان کے جسم میں خون اور گوبر کے درمیان سے خالص دودھ پیدا کر دیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔‘‘
اس سے پہلے کہ رمضان ہمارے درمیان ہو اور ہم رمضان کے درمیان ہوں ہمیں اپنا دل صاف کرلینا چاہیے ،ہمیں اللہ کے سامنے رورو کر،گڑگڑا کر دعا کرنا چاہئے کہ اے اللہ ہمیں معاف کردے،ہمارے گناہوں کو بخش دے،ہمارے دلوں کو پاک کردے،ہم تجھ سے اپنے کیے کی معافی چاہتے ہیں ،اے اللہ ہمارے دل کو اس قابل بنادے کہ تیرا مہمان اس میں قیام کرسکے ۔ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ تیری نافرمانی نہیں کریں گے،ہمیشہ تیرا کہنا مانیں گے۔تیرے حکموں پر چلیں گے۔روزہ ہم پر اسی لیے فرض کیا گیا ہے کہ ہم اپنے اندر تقوے کی صفت پیدا کریں ۔اللہ کا ارشاد ہے۔
یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (البقرۃ: 183)
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
تقویٰ یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو تمام سیئات سے ،تمام گناہوں سے،تمام کوتاہیوں سے باز رکھے اور تمام نیکیاں بجالائے،ہر وہ نیک کام جو کرسکتا ہے وہ کرے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان المبارک سے پوری طرح فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
رمضان کے استقبال کا باطنی مرحلہ تو یہ ہے کہ اپنے دل کو پاک صاف کرلیں اور ظاہری مرحلہ یہ ہے کہ ہم اس کا چانددیکھنے کا اہتمام کریں۔اس لیے کہاسلام کے اکثر احکامات کا تعلق چاند سے ہے ۔جیسے رمضان،عید ین،حج وغیرہ کی عبادات چاند کی تاریخوں کے اعتبار سے انجام دی جاتی ہیں۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے:۔
’’لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔آپ کہہ دیجیے،یہ لوگوں اوقات مقررہ اور حج کی تعیین کے لیے ہے‘‘ (البقرہ189)
ان مہینوں کا چاند دیکھنا جن میں کوئی اہم عبادت انجام دی جاتی ہے فرض کفایہ ہے۔فرض کفایہ وہ عمل ہے جس کو بستی یا شہر میں سے کوئی ایک یا چند افرادادا کرلیں تو پوری بستی کی طرف سے کافی ہے،اگر کسی نے بھی نہیں کیا تو سب گنہ گار ہوں گے۔رمضان چونکہ اللہ کا مہینہ ہے اور ہمارے لیے مقدس مہمان کی حیثیت سے آتا ہے اس کی بے پناہ فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے اس کا ممتازمقام ہے ،رمضان کا چاند دیکھنے کا شوق بھی زیادہ ہوتا ہے۔اس لیے ۲۹شعبان کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جائے،مغرب کے فوراً بعد اونچے مقامات یا گھر کی چھت پر جا کر چاند دیکھنے کی کوشش کیجیے،مطلع اگر ابر آلود یعنی بارش والا ہوتب بھی ثواب کی نیت سے چاند دیکھنے کی کوشش کیجیے۔کیوں کہ اللہ کے نبی ﷺ اس کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔اگر ۲۹ کو نظر نہ آئے تو ۳۰ تاریخ کو چاند دیکھیے۔یہ سوچ کر نہ رہ جایئے کہ آج تو چاند ہوہی جائے گا۔کیوں کہ چاند دیکھنا بھی سنت ہے اور ہر سنت پر اجر ہے۔چاند نظر آجائے تو یہ دعا پڑھیے۔
اللّٰہُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِیمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ (ترمذی)
’’اے اللہ! اس چاند کو امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما، (اے چاند) میرااورتیرا رب اللہ ہے۔‘‘
چاند کے تعلق سے چند مسائل درج کیے جارہے ہیںجن کو ہر مسلمان کو جاننا چاہئے۔
یہ بات یاد رکھیں کہ قمری مہینہ ۲۹ دن کا یا ۳۰ دن کا ہوتا ہے ۔نہ ۲۸ دن کا اور نہ ۳۱ دن کا ،جیسا کہ انگریزی مہینہ ہوتا ہے۔اس لحاظ سے ہر مہینے کی ۲۹ تاریخ کو چاند دیکھا جائے گا ۔ اگر چاند نظر نہ آئے تو پھر اس مہینے کے ۳۰ دن پورے کیے جائیں گے۔
آج کل سائنسی تحقیقات کی وجہ سے بہت سی چیزیں آسان ہوگئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فطری چیزوں کو ہم چھوڑ دیں ۔سائنسی تحقیقات بدلتی رہتی ہیں۔پورے سال کا کلینڈر پہلے ہی تیار ہوجاتا ہے ۔اکثر و بیشتر وہ درست بھی ہوتا ہے ۔اس کے باوجود آنکھوں سے چاند دیکھنا ضروری ہے۔آنکھوں سے چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھا جاسکتا ہے اورنہ عیدمنائی جاسکتی ہے۔اس لیے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔
’’ روزہ اس وقت تک نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور عید کے لیے افطار اس وقت تک نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور اگر چاند تم پر چھپ جائے (ابر کی وجہ سے دکھائی نہ دے ) تو حساب لگا لو (یعنی تیس دن پورے کرلو)۔‘‘ (بخاری )
ایک دوسری روایت کا مفہوم یہ ہے:۔
’’مہینہ انتیس راتوں کا ہے، اس لیے روزہ اس وقت تک نہ رکھو جب تک (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو۔ پھر اگر تم پر چاند مستور ہوجائے تو (شعبان) کی تعداد تیس دن پورے کرکے رمضان سمجھو۔‘‘ ( بخاری )
یہ دونوں حدیثیں بخاری شریف کے علاوہ حدیث کی دوسری مستند کتابوں میں بھی موجود ہیں۔اس حدیث میں چاند کو دیکھنے کی بات کہی گئی ہے۔دیکھنا عرف عام میں نظروں اور آنکھوں سے ہوتا ہے ۔اس لیے چاند دیکھنے کی بھر پور کوشش کیجیے۔
ایک مطلع کے لیے ایک جگہ چاند دیکھ لینا کافی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا وہ علاقہ جہاں دن رات کے اوقات میں اتنا فرق نہ ہو کہ تاریخ ہی بدل جائے تو اسے ایک مطلع کہا جائے گا۔مثلاً جب ہمارے یہاں دن ہوتا ہے تو امریکہ میں رات ہوتی ہے ،اس لیے دونوں کے مطلع الگ ہیں ،اسی طرح سعودی عرب میں بھارت سے ڈھائی گھنٹے بعد بعد رات آتی ہے اس لیے یہ ممکن ہے کہ بھارت میں چاند دکھائی نہ دے لیکن ڈھائی گھنٹے بعد سعودی عرب میں دکھائی دے جائے تو یہ الگ مطلع کہلائے گا۔اس لیے سعودی عرب کے چاند پر ہم روزہ شروع نہیں کرسکتے۔بھلے ہی وہاں کعبہ ہے ۔ایک مسلمان کے دل میں کعبے کے احترام و اکرام کے باوجود اسلامی احکامات کی عمل آوری میں اس کا خیال نہ کیا جائے گا۔
مطلع ابر آلود ہونے کی شکل میںاور کسی جگہ سے چاند کے ہونے یا نہ ہونے کی خبر نہ آنے (یعنی شک و شبہ اور کنفیوزن کی صورت حال میں )کی شکل میں ۳۰ شعبان کوزوال صبح تک خبر کا انتظار کیا جائے گا اور کچھ نہیں کھایا پیا جائے گا۔اگر چاند ہونے کی خبر آجائے تو روزہ مکمل کیا جائے گا ورنہ روزہ ختم کردیا جائے گا۔چاند کے ہونے کی خبر نہ ملنے کی صورت میں روزہ نہیں رکھا جائے گا۔
اگر کسی نے کہا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اس نے چاند دیکھا ہے،اور دونوں لوگ عاقل بالغ قابل اعتبار ہیں تو گواہی تسلیم کرلی جائے گی اسے فقہ کی زبان میں شہادت علی ا لشہادۃ کہتے ہیں۔
کسی ملک کی رویت ہلال کمیٹی اورکسی اسلامی ملک کے سربراہ کی جانب سے چاند کے ہونے کے اعلان کا اعتبار کیا جائے گا۔
اگر کسی وجہ سے کسی شخص کو ۲۹ شعبان کو چاند ہونے کی خبر ملی اور روزہ رکھ لیا گیا لیکن بعد میں تحقیق ہوئی کہ وہ چاند غلط تھا تو ایک روزہ زیادہ رکھا جائے گا ۔خواہ روزوں کی تعداد اکتیس ہوجائے۔
آج کل سوشل میڈیا عام ہے ،پل پل کی خبریں پل بھر میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں ۔ چاند کے معاملے میں بعض لوگ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلط خبر پھیلانے لگتے ہیں ۔اس سے ہوشیاررہنا چاہئے ۔ہوسکتا ہے کوئی غیر مسلم اپنی آئی ڈی بدل کر گمراہ کن خبر پھیلادے ۔اس لیے سوشل میڈیا کا اعتبار نہ کیا جائے بلکہ اپنی بستی کے امام اور قاضی شہر کے اعلان کا اعتبار کریں۔
اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہو ،جہاں کوئی مسجد نہ ہو،اور مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے اسے چاند دکھائی نہ دیا تو ایسی صورت میں وہ اپنے عزیزوں سے فون کے ذریعے چاند ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا۔یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر رواں مہینے کے تیس دن پورے کرے گا ہم جانتے ہیں کہ سیاچن ،لداخ اور کشمیر کی سرحدوں پر برف باری کی وجہ سے ٹیلی مواصلات کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور مذکورہ صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔
ماہ مبارک کی آمد کا انتظار کرنا اور اس کے استقبال کے لیے خود کو تیار کرنا باعث اجر ہے ۔ ،ہمیں اجر کی ضرورت ہے ۔ہم انسان ہیں ،ہمارے اندر بشری کمزوریاں ہیں ۔صبح سے شام تک نہ معلوم کتنے گناہ ہوتے ہیں ۔اس لیے جب بھی ثواب حاصل کرنے اور اجر سمیٹنے کا موقع ملے ہاتھ سے نہ جانے دیجیے۔یہ اجر اکٹھا ہوکر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ان شاء اللہ

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    بی جے پی بتائے، وزیرِ تعلیم آشیش سود کا اے پی جے اسکول سے کیا رشتہ ہے؟

    بی جے پی بتائے، وزیرِ تعلیم آشیش سود کا اے پی جے اسکول سے کیا رشتہ ہے؟

    فروری 18, 2026
    دہلی کی 241سے زیادہ سڑکیں گڈھوں سے پاک ہوں گی

    دہلی کی 241سے زیادہ سڑکیں گڈھوں سے پاک ہوں گی

    فروری 18, 2026
    اپنے دل کو اس قابل بنالیجیے کہ اللہ کا مہمان اس میں قیام کرسکے

    اپنے دل کو اس قابل بنالیجیے کہ اللہ کا مہمان اس میں قیام کرسکے

    فروری 18, 2026
    وسطی سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، کم از کم 28 افراد جاں بحق

    وسطی سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، کم از کم 28 افراد جاں بحق

    فروری 18, 2026
    بی جے پی بتائے، وزیرِ تعلیم آشیش سود کا اے پی جے اسکول سے کیا رشتہ ہے؟

    بی جے پی بتائے، وزیرِ تعلیم آشیش سود کا اے پی جے اسکول سے کیا رشتہ ہے؟

    فروری 18, 2026
    دہلی کی 241سے زیادہ سڑکیں گڈھوں سے پاک ہوں گی

    دہلی کی 241سے زیادہ سڑکیں گڈھوں سے پاک ہوں گی

    فروری 18, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist