دبئی، 19 فروری (یو این آئی) آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ کا ماننا ہے کہ آل راؤنڈر گلین میکسویل کا کریئر ختم ہو چکا ہے اور موجودہ ٹی 20 ورلڈ کپ ان کا آخری آئی سی سی ایونٹ تھا۔ پونٹنگ کے مطابق، آسٹریلیا کی ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی کی وجہ فارم اور فٹنس کے متعدد مسائل کا ایک ساتھ پیدا ہونا ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ گلین میکسویل اپنا آخری عالمی ایونٹ کھیل چکے ہیں۔ آسٹریلیا کی ٹیم گروپ مرحلے میں ایک میچ باقی رہتے ہوئے جو جمعہ کو عمان کے خلاف ہے ،زمبابوے اور سری لنکا سے زبردست شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ اگرچہ ٹیم نے 2025 میں زیادہ تر دو طرفہ کرکٹ میں اپنا دبدبہ برقرار رکھا تھا، لیکن وہ ورلڈ کپ میں ہندوستان اور پاکستان سے لگاتار پانچ میچ ہار کر آئے تھے اور ٹیم کو انجری کے مسائل کا بھی سامنا تھا۔پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ سری لنکا نہیں جا سکے، جس سے باؤلنگ اٹیک میں وہ اسٹرائیک پاور نہ رہی، جبکہ مچل اسٹارک بھی گزشتہ سال اس فارمیٹ سے ریٹائر ہو گئے تھے۔ ٹم ڈیوڈ کو ہیمسٹرنگ انجری کے بعد ابتدائی مرحلے میں آرام دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ باکسنگ ڈے کے بعد سے زمبابوے کے خلاف کھیلنے تک کوئی کرکٹ نہیں کھیل پائے۔ فارم کے حوالے سے بھی خدشات تھے، خاص طور پر میکسویل اور کوپر کونولی کو لے کر، جبکہ کیمرون گرین کی کارکردگی پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔پونٹنگ نے ‘آئی سی سی ریویو کو بتایا، "یہ کہنا پڑے گا کہ یہ واقعی ایک بہت ہی خراب مہم رہی ہے۔ آغاز میں انہیں کچھ انجری کے مسائل تھے، ہیزل ووڈ اور کمنز باہر ہو گئے تھے اور پھر ٹم ڈیوڈ بھی شروع میں دستیاب نہیں تھے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ زمبابوے سے ہارنے کے بعد، وہ یہی سوچیں گے کہ ہمارا ورلڈ کپ ختم ہو گیا، بس وہیں اور اسی وقت۔”پونٹنگ نے مزید کہا، آپ کاغذ پر آسٹریلوی ٹیم کو دیکھیں، تو ایسا نہیں لگتا کہ اس کے گرد وہ دبدبہ ہے جو آئی سی سی ایونٹس اور ورلڈ کپ میں جانے والی کئی دوسری آسٹریلیائی ٹیموں کے پاس ہوتا ہے۔ اگر آپ آگے بڑھنا اور جیتنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنے بہترین اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ان ٹورنامنٹس میں کھڑے ہوں اور آپ کے لیے بڑے لمحات جیتیں، اور آسٹریلیا کے پاس ایسا نہیں ہے۔ شاید ان کے ٹاپ آرڈر کی بیٹنگ سے انہیں زیادہ فائدہ نہیں ملا، جس میں کیمرون گرین نمبر 3 پر تھے، اور پھر ٹم ڈیوڈ گزشتہ چند میچوں میں نمبر 4 پر آئے۔ انہوں نے سری لنکا کے خلاف شاندار شروعات کی اور پھر 20 رنوں پر چھ وکٹیں گنوا دیں… جس سے کھیل کے دوسرے حصے میں کوئی مومنٹم نہیں بن سکا”۔ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے، کیونکہ وہ 2028 کے اولمپکس اور اگلے ٹی 20 ورلڈ کپ (جس کی میزبانی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ مشترکہ طور پر کریں گے) کی جانب دو سالہ سائیکل شروع کر رہے ہیں، پونٹنگ نے بہت زیادہ کھلاڑیوں پر حتمی فیصلہ نہیں دیا، تاہم انہیں نہیں لگتا کہ میکسویل دوبارہ کھیلیں گے۔انہوں نے کہا، "گلین میکسویل، مجھے نہیں لگتا کہ وہ وہاں ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ ان کا کریئر ختم ہونے والا ہے۔ مارکس اسٹونیس پر بھی شاید سوالیہ نشان ہوگا، لیکن وہ آج کل دنیا بھر میں زیادہ تر ٹی 20 ٹورنامنٹ ہی کھیل رہے ہیں۔ وہ زیادہ اسٹیٹ کرکٹ نہیں کھیلتے اور ظاہر ہے بی بی ایل کھیلتے ہیں، اس لیے اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کی وجہ سے وہ وہاں ہو سکتے ہیں۔ اسٹیو اسمتھ اس بارے میں بہت کھل کر بات کر چکے ہیں کہ وہ اولمپک ٹیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں، یہ ایک الگ کہانی ہے”۔












