نئی دہلی، (یو این آئی) بھارتیہ یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے جمعہ کو یہاں بھارت منڈپم میں منعقدہ انڈیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) امپیکٹ کانفرنس کے دوران احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی پر ملک کے وقار اور سالمیت سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ یوتھ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت اے آئی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے نام پر ملکی وسائل اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق سنگین سوالات کے جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کانفرنس کو محض پروپیگنڈے کا ذریعہ بنایا گیا ہے، جبکہ نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور تکنیکی شفافیت سے جڑے خدشات پر کوئی ٹھوس بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔واضح ہے کہ انڈیا اے آئی امپیکٹ کانفرنس کے حوالے سے کانگریس مسلسل وزیراعظم کو نشانہ بنا رہی ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کو کہا تھا کہ ہندوستان کی صلاحیتوں اور ڈیٹا سے فائدہ اٹھانے کے بجائے، انڈیا اے آئی امپیکٹ کانفرنس ایک تماشہ بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کانفرنس میں ہندوستانی ڈیٹا کو فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے اور چینی مصنوعات کی نمائش کی جا رہی ہے۔دریں اثنا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اے آئی امپیکٹ سمٹ میں یوتھ کانگریس کارکنوں کے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کی سازش تھی۔ بی جے پی کے ترجمان سمبیت پاترا نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا، "راہل گاندھی کے کہنے پر کانگریس کے کارکنوں نے آج جو کچھ کیا اس سے ہندوستان بھر کے نوجوان مشتعل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ یوتھ کانگریس کے چار لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مسٹر سمبت پاترا نے کہا کہ یہ چھوٹے کارکنان نہیں ہیں بلکہ اعلیٰ عہدے پر فائز کارکنان ہیں۔ انہوں نے کہا، "وہ افراتفری میں داخل نہیں ہوئے، انہوں نے پہلے رجسٹریشن کرایا۔ انہیں کیو آر کوڈ ملا۔ وہ خاص مقصد سے اندر گئے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارکن اپنی ٹی شرٹ الٹی کرکے پہن کر اندر داخل ہوئے، تاکہ تحریر نظر نہ آئے۔ مسٹر سمبت پاترا نے کہا کہ یہ منصوبہ راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر ان کی اور پرینکا گاندھی کی موجودگی میں بنایا گیا تھا اور یہ ایک "منصوبہ بند تجربہ تھا، اتفاقی نہیں تھا”۔دوسری اور بھارت منڈپم میں اے آئی سمٹ کے دوران جمعہ کے روز یوتھ کانگریس کے احتجاج پر اپنے سرکاری ردعمل میں، کانگریس نے کہا کہ احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے اور نوجوانوں کے ذریعہ یہ مظاہرہ ان کے مستقبل سے متعلق مسائل پر ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے مستقل رکن گردیپ سنگھ سپل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں جوش فطری ہے، خاص طور پر جب انہيں یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ مسٹر گردیپ سنگھ سپل نے کہا، "نوجوان کبھی کبھی غصے میں آجاتے ہیں۔ جس طرح ان کے مستقبل کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، جس طرح ہندوستان نے خود سپردگی کی ہے، اور نوجوانوں کے مستقبل پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، اس پر انہوں نے اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے احتجاج کیا ہے۔” بی جے پی کی جانب سے یوتھ کانگریس کے احتجاج کو "ملک مخالف” قرار دینے پر جواب دیتے ہوئے مسٹر گردیپ سنگھ سپل نے کہا کہ ملک میں اس سے پہلے بھی کئی بین الاقوامی پروگراموں کے دوران احتجاج ہوا ہے۔ کامن ویلتھ گیمس کی مثال دیتے ہوئے مسٹر گردیپ سنگھ سپل نے کہا کہ دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران بی جے پی صدر نتن گڈکری بیریکیٹس پر چڑھ کر احتجاج کیا کرتے تھے۔












