• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, فروری 21, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

تکفیر کی روایت اور اسلامی اخلاقیات

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 21, 2026
0 0
A A
تکفیر کی روایت اور اسلامی اخلاقیات
Share on FacebookShare on Twitter

بر صغیر ہندوپاک میں موجود مختلف اسلامی فکری مکاتب اورجماعتوں میں پائے جانے والے فکری اختلافات اورحد سے بڑھے ہوئے فقہی مباحث اور فلسفیانہ موشگافیوں نے بھی کسی حد تک اسلام کی صحیح اور صاف ستھری تعلیمات کو غیروں تک پہونچانے میں رکاوٹ اور مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور تفرقہ بازی کو بڑھاوا دینے کا کام کیا ہے جس نے نا صرف ملت اسلامیہ کے اتحاد کو نقصان پہونچایا ہے بلکہ اس فکری اختلاف میں موجود ’تشددپسندی‘ نے غیروں کو اسلام سے بدظن کرنے کا کام بھی کیا ہے ،کیونکہ جزئی فقہی اختلافات کو آپسی گروہ بندی اور مسلک پرستی نے ایک دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے اور ایک دوسرے کی ’تکفیر ‘کرنے کے لیے ہتھیار کی طرح استعمال کیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ملت ایک’کلمہ‘ایک ’قرآن،ایک ’قبلہ‘اور ایک ’نبی‘ پر ایمان رکھنے کے باوجود فرقہ بندی کا شکار ہے اور روز بروز اس کا شیرازہ منتشر ہوتا جارہاہے۔
آج مسلم معاشرے کو درپیش سنگین ترین فکری چیلنجوں میں سے ایک "تکفیر” کا رجحان ہے—یعنی فکری، فقہی یا مذہبی اختلاف کی بنیاد پر کسی دوسرے مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دینا۔ یہ رجحان نہ صرف سماجی اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات اور اس کی قانونی (فقہی) روایت کے بھی منافی ہے۔ اب سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال نے اس رجحان کے دائرہ کو عوام تک وسیع کردیا ہے اور وہ عوام جو ان فقہی اختلافات اورفکری جزئیات کی گہرائی سے ناواقف ہے وہ متذبذب اور ذہنی کشمکش کا شکار ہے اور مجبور ہوکر اپنے تئیں اسلام کی خود ساختہ ’تعریف ‘گڑھنے پر مجبور ہے جو اس نسل کو صحیح اسلامی تعلیمات سے دور کرنے اور غیر اسلامی نظریات کو اختیار کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ہندوستانی تناظر میں، جہاں مذہبی کثرت پسندی اور جمہوری بقائے باہمی ایک تاریخی حقیقت ہے، تکفیر کی سوچ نہ صرف ناقابلِ عمل بلکہ معاشرے کو تقسیم کرنے والی ثابت ہوتی ہے۔قرآن واضح کرتا ہے کہ کسی شخص کے ایمان یا کفر کا حتمی فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ انسان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ دوسروں کے دلوں اور نیتوں کا فیصلہ کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”یقیناً اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔”(سورہ الحج، 22:69)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکفیر کے موضوع پر انتہائی سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ صحیح البخاری میں مروی حدیث کے مطابق:’’اگر کوئی شخص اپنے بھائی سے کہے، ‘اے کافر’، اور وہ حقیقت میں ایسا نہ ہو، تو یہ لفظ کہنے والے ہی پر لوٹ آتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6104؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 60)۔ یہ حدیث اسلامی قانون اور اخلاقیات دونوں لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تکفیر کوئی عام مذہبی رائے نہیں، بلکہ ایک سنگین اخلاقی جرم ہے، کیونکہ یہ ایمان کے فیصلے کو اللہ کے بجائے انسانوں کے ہاتھ میں سونپ دیتی ہے۔
اسلام اختلافِ رائے کو فطری مانتا ہے اور اسے اپنی علمی روایت کا لازمی حصہ تسلیم کرتا ہے۔ چاروں مشہور فقہی ائمہ—امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل—کے درمیان گہرے فکری اختلافات رہے، لیکن کسی نے بھی ایک دوسرے کو کافر قرار نہیں دیا۔ امام شافعی کا مشہور قول ہے:”میری رائے درست ہے، لیکن اس کے غلط ہونے کا امکان ہے؛ اور دوسرے کی رائے غلط ہے، لیکن اس کے صحیح ہونے کا امکان ہے۔”یہ قول اسلامی علمی عاجزی اور رواداری کی بہترین مثال ہے۔قرآن مسلمانوں کو جلد بازی میں نتائج اخذ کرنے اور شکوک و شبہات سے روکتا ہے:”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”(سورہ الحجرات، 49:12)،یہ کتنی اہم آیت ہے جہاں بدگمانی سے بچنے کی تاکید کی جارہی ہے اور ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ـ’’ میں اپنے بندے کے حسن ظن کے ساتھ ہوںـ‘‘۔پھر کوئی کسی مومن کو ’’کافر۔یعنی غیر مسلم ‘‘کیسے قرار دے سکتا ہے۔تکفیر کا سب سے سنگین نتیجہ یہ ہے کہ یہ مسلم معاشرے کو اندر سے تقسیم کر دیتا ہے اور اسے اخلاقی قیادت سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآن مسلمانوں کو "امتِ وسط” یعنی متوازن، انصاف پسند اور اخلاقی برادری بننے کی تعلیم دیتا ہے (سورہ البقرہ، 2:143)۔
ہندوستانی مسلم معاشرے کا تاریخی تجربہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ یہاں اسلام کی اشاعت نہ تو تکفیر کے ذریعے ہوئی اور نہ ہی تلوار کے زور پر۔ صوفیائے کرام، خانقاہی روایت اور اخلاقی کردار نے اسلام کو معاشرے سے جوڑا۔ اس روایت کا بنیادی عنصر بائیکاٹ نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنا (شمولیت) رہا ہے۔ خلقِ خدا کی خدمت: صوفیاء کے نزدیک اللہ تک پہنچنے کا راستہ اس کی مخلوق کی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے۔ ان کے لنگر اور خانقاہیں ہر خاص و عام، مسلم اور غیر مسلم کے لیے کھلی رہتی تھیں۔ لنگر کی روایت جہاں بنا کسی مذہبی امتیاز کے ہر کسی کو کھانا تقسیم ہوتا تھا صوفیاء کی ہی دین ہے جہاں سے سکھ طبقہ نے اس روایت کو آگے بڑھایا کیونکہ باباگرونانک کا صوفیوں سے کس قدر تعلق تھا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔درحقیقت صوفیاء کرام نے تکفیر کے بجائے تالیفِ قلب کو اپنایا جو بالکل قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔زکوۃ اور صدقات کے مصارف میں ’تالیف قلب‘ایک اہم مصرف ہے۔صوفیاء نے لوگوں کو اسلام سے خارج کرنے کے بجائے ان کے دلوں کو جوڑنے (تالیفِ قلب) پر توجہ دی۔ ان کا ماننا تھا کہ سختی انسان کو دور کر دیتی ہے جبکہ اخلاق اسے قریب لاتا ہے۔صوفیاء نے یہاں کی مقامی زبانوں اور رسم و رواج کو سمجھا اور اسی زبان میں اپنا پیغام پہنچایا، جس کی وجہ سے لوگ جوق در جوق ان کی طرف کھچے چلے آئے اور ایک بڑی تعداد نے ان کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا۔
آج اسی فکری گمراہی اور حد سے بڑھے ہوئے فکری اختلافات کی دین یہ ہے کہ تشدد پسندی عام ہے اورایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی تکفیر پر آمادہ ہیں،جبکہ یہی اختلاف اور فکری گمراہی آگے چلکر انسانی مزاج کو متشدد بنادیتی ہے اور وہ خود کو صحیح اور باقی سب کو غلط سمجھنے لگتا ہے اور پھر آگے چلکر وہ اس فکری اختلاف اور جزئی فقہی مباحث کو ’اصول دین‘اور کلیات تک پہونچا دیتا ہے جہاں سے اسے اپنے سوا باقی سب غلط نظر آتے ہیں۔جبکہ جمہوری نظام اختلافِ رائے کو جرم نہیں مانتا، بلکہ اسے مکالمے اور مشاورت کی بنیاد بناتا ہے۔ اسلام بھی اسی اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ پیغمبراسلام نے فرمایا:”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”(صحیح البخاری، حدیث نمبر 10؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 40)اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تشدد پسندی اور عسکریت پسندی کی فکری بنیادیں اکثر تکفیر ہی سے استوار ہوتی ہیں۔ جب کسی گروہ کو پہلے "اسلام سے خارج” قرار دے دیا جاتا ہے، تب اس کے خلاف تشدد کو مذہبی فریضے کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔ جبکہ قرآن انسانی زندگی کے تقدس کو اعلیٰ ترین مقام دیتا ہے:”جس نے کسی ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، اس نے گویا پوری انسانیت کا قتل کیا۔”(سورہ المائدہ، 5:32)یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں تشدد کا کوئی فکری یا مذہبی جواز نہیں ہے۔تشدد پسندی، چاہے اسے کسی بھی مذہبی لبادے میں پیش کیا جائے، اسلام کی اصل تعلیمات کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
آج اس بات کی ضرورت ہے کہ تکفیر، تشددپسندی اور انتہا پسندی کو اسلام سے واضح طور پر الگ کیا جائے اور انہیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مسترد کیا جائے۔ اسلام کا راستہ انصاف، رحمت اور انسانی وقار کا راستہ ہے۔ ہندوستانی تناظر میں تکفیر کو مسترد کرنا صرف مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔ یہی نقطہ نظر مسلم معاشرے کو اندرونی طور پر مستحکم بنائے گا اور ملک کے مشترکہ جمہوری ورثے کو بھی مضبوط کرے گا۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    اے ایم یو ایکو کلب کی جانب سے ”کاربن کانکلیو“ کا انعقاد

    اے ایم یو ایکو کلب کی جانب سے ”کاربن کانکلیو“ کا انعقاد

    فروری 21, 2026
    انسانیت کے کام آنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عظیم سے نوازتے ہیں

    انسانیت کے کام آنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عظیم سے نوازتے ہیں

    فروری 21, 2026
    نالندہ میں صحت خدمات کی کڑی نگرانی،اسپتال کی سہولیات میں نمایاں بہتری

    نالندہ میں صحت خدمات کی کڑی نگرانی،اسپتال کی سہولیات میں نمایاں بہتری

    فروری 21, 2026
    پستول، 2 زندہ کارتوس کے ساتھ 3 بدمعاش گرفتار

    پستول، 2 زندہ کارتوس کے ساتھ 3 بدمعاش گرفتار

    فروری 21, 2026
    اے ایم یو ایکو کلب کی جانب سے ”کاربن کانکلیو“ کا انعقاد

    اے ایم یو ایکو کلب کی جانب سے ”کاربن کانکلیو“ کا انعقاد

    فروری 21, 2026
    انسانیت کے کام آنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عظیم سے نوازتے ہیں

    انسانیت کے کام آنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عظیم سے نوازتے ہیں

    فروری 21, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist