بر صغیر ہندوپاک میں موجود مختلف اسلامی فکری مکاتب اورجماعتوں میں پائے جانے والے فکری اختلافات اورحد سے بڑھے ہوئے فقہی مباحث اور فلسفیانہ موشگافیوں نے بھی کسی حد تک اسلام کی صحیح اور صاف ستھری تعلیمات کو غیروں تک پہونچانے میں رکاوٹ اور مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور تفرقہ بازی کو بڑھاوا دینے کا کام کیا ہے جس نے نا صرف ملت اسلامیہ کے اتحاد کو نقصان پہونچایا ہے بلکہ اس فکری اختلاف میں موجود ’تشددپسندی‘ نے غیروں کو اسلام سے بدظن کرنے کا کام بھی کیا ہے ،کیونکہ جزئی فقہی اختلافات کو آپسی گروہ بندی اور مسلک پرستی نے ایک دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے اور ایک دوسرے کی ’تکفیر ‘کرنے کے لیے ہتھیار کی طرح استعمال کیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ملت ایک’کلمہ‘ایک ’قرآن،ایک ’قبلہ‘اور ایک ’نبی‘ پر ایمان رکھنے کے باوجود فرقہ بندی کا شکار ہے اور روز بروز اس کا شیرازہ منتشر ہوتا جارہاہے۔
آج مسلم معاشرے کو درپیش سنگین ترین فکری چیلنجوں میں سے ایک "تکفیر” کا رجحان ہے—یعنی فکری، فقہی یا مذہبی اختلاف کی بنیاد پر کسی دوسرے مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دینا۔ یہ رجحان نہ صرف سماجی اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات اور اس کی قانونی (فقہی) روایت کے بھی منافی ہے۔ اب سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال نے اس رجحان کے دائرہ کو عوام تک وسیع کردیا ہے اور وہ عوام جو ان فقہی اختلافات اورفکری جزئیات کی گہرائی سے ناواقف ہے وہ متذبذب اور ذہنی کشمکش کا شکار ہے اور مجبور ہوکر اپنے تئیں اسلام کی خود ساختہ ’تعریف ‘گڑھنے پر مجبور ہے جو اس نسل کو صحیح اسلامی تعلیمات سے دور کرنے اور غیر اسلامی نظریات کو اختیار کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ہندوستانی تناظر میں، جہاں مذہبی کثرت پسندی اور جمہوری بقائے باہمی ایک تاریخی حقیقت ہے، تکفیر کی سوچ نہ صرف ناقابلِ عمل بلکہ معاشرے کو تقسیم کرنے والی ثابت ہوتی ہے۔قرآن واضح کرتا ہے کہ کسی شخص کے ایمان یا کفر کا حتمی فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ انسان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ دوسروں کے دلوں اور نیتوں کا فیصلہ کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”یقیناً اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔”(سورہ الحج، 22:69)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکفیر کے موضوع پر انتہائی سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ صحیح البخاری میں مروی حدیث کے مطابق:’’اگر کوئی شخص اپنے بھائی سے کہے، ‘اے کافر’، اور وہ حقیقت میں ایسا نہ ہو، تو یہ لفظ کہنے والے ہی پر لوٹ آتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6104؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 60)۔ یہ حدیث اسلامی قانون اور اخلاقیات دونوں لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تکفیر کوئی عام مذہبی رائے نہیں، بلکہ ایک سنگین اخلاقی جرم ہے، کیونکہ یہ ایمان کے فیصلے کو اللہ کے بجائے انسانوں کے ہاتھ میں سونپ دیتی ہے۔
اسلام اختلافِ رائے کو فطری مانتا ہے اور اسے اپنی علمی روایت کا لازمی حصہ تسلیم کرتا ہے۔ چاروں مشہور فقہی ائمہ—امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل—کے درمیان گہرے فکری اختلافات رہے، لیکن کسی نے بھی ایک دوسرے کو کافر قرار نہیں دیا۔ امام شافعی کا مشہور قول ہے:”میری رائے درست ہے، لیکن اس کے غلط ہونے کا امکان ہے؛ اور دوسرے کی رائے غلط ہے، لیکن اس کے صحیح ہونے کا امکان ہے۔”یہ قول اسلامی علمی عاجزی اور رواداری کی بہترین مثال ہے۔قرآن مسلمانوں کو جلد بازی میں نتائج اخذ کرنے اور شکوک و شبہات سے روکتا ہے:”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”(سورہ الحجرات، 49:12)،یہ کتنی اہم آیت ہے جہاں بدگمانی سے بچنے کی تاکید کی جارہی ہے اور ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ـ’’ میں اپنے بندے کے حسن ظن کے ساتھ ہوںـ‘‘۔پھر کوئی کسی مومن کو ’’کافر۔یعنی غیر مسلم ‘‘کیسے قرار دے سکتا ہے۔تکفیر کا سب سے سنگین نتیجہ یہ ہے کہ یہ مسلم معاشرے کو اندر سے تقسیم کر دیتا ہے اور اسے اخلاقی قیادت سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآن مسلمانوں کو "امتِ وسط” یعنی متوازن، انصاف پسند اور اخلاقی برادری بننے کی تعلیم دیتا ہے (سورہ البقرہ، 2:143)۔
ہندوستانی مسلم معاشرے کا تاریخی تجربہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ یہاں اسلام کی اشاعت نہ تو تکفیر کے ذریعے ہوئی اور نہ ہی تلوار کے زور پر۔ صوفیائے کرام، خانقاہی روایت اور اخلاقی کردار نے اسلام کو معاشرے سے جوڑا۔ اس روایت کا بنیادی عنصر بائیکاٹ نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنا (شمولیت) رہا ہے۔ خلقِ خدا کی خدمت: صوفیاء کے نزدیک اللہ تک پہنچنے کا راستہ اس کی مخلوق کی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے۔ ان کے لنگر اور خانقاہیں ہر خاص و عام، مسلم اور غیر مسلم کے لیے کھلی رہتی تھیں۔ لنگر کی روایت جہاں بنا کسی مذہبی امتیاز کے ہر کسی کو کھانا تقسیم ہوتا تھا صوفیاء کی ہی دین ہے جہاں سے سکھ طبقہ نے اس روایت کو آگے بڑھایا کیونکہ باباگرونانک کا صوفیوں سے کس قدر تعلق تھا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔درحقیقت صوفیاء کرام نے تکفیر کے بجائے تالیفِ قلب کو اپنایا جو بالکل قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔زکوۃ اور صدقات کے مصارف میں ’تالیف قلب‘ایک اہم مصرف ہے۔صوفیاء نے لوگوں کو اسلام سے خارج کرنے کے بجائے ان کے دلوں کو جوڑنے (تالیفِ قلب) پر توجہ دی۔ ان کا ماننا تھا کہ سختی انسان کو دور کر دیتی ہے جبکہ اخلاق اسے قریب لاتا ہے۔صوفیاء نے یہاں کی مقامی زبانوں اور رسم و رواج کو سمجھا اور اسی زبان میں اپنا پیغام پہنچایا، جس کی وجہ سے لوگ جوق در جوق ان کی طرف کھچے چلے آئے اور ایک بڑی تعداد نے ان کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا۔
آج اسی فکری گمراہی اور حد سے بڑھے ہوئے فکری اختلافات کی دین یہ ہے کہ تشدد پسندی عام ہے اورایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی تکفیر پر آمادہ ہیں،جبکہ یہی اختلاف اور فکری گمراہی آگے چلکر انسانی مزاج کو متشدد بنادیتی ہے اور وہ خود کو صحیح اور باقی سب کو غلط سمجھنے لگتا ہے اور پھر آگے چلکر وہ اس فکری اختلاف اور جزئی فقہی مباحث کو ’اصول دین‘اور کلیات تک پہونچا دیتا ہے جہاں سے اسے اپنے سوا باقی سب غلط نظر آتے ہیں۔جبکہ جمہوری نظام اختلافِ رائے کو جرم نہیں مانتا، بلکہ اسے مکالمے اور مشاورت کی بنیاد بناتا ہے۔ اسلام بھی اسی اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ پیغمبراسلام نے فرمایا:”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”(صحیح البخاری، حدیث نمبر 10؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 40)اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تشدد پسندی اور عسکریت پسندی کی فکری بنیادیں اکثر تکفیر ہی سے استوار ہوتی ہیں۔ جب کسی گروہ کو پہلے "اسلام سے خارج” قرار دے دیا جاتا ہے، تب اس کے خلاف تشدد کو مذہبی فریضے کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔ جبکہ قرآن انسانی زندگی کے تقدس کو اعلیٰ ترین مقام دیتا ہے:”جس نے کسی ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، اس نے گویا پوری انسانیت کا قتل کیا۔”(سورہ المائدہ، 5:32)یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں تشدد کا کوئی فکری یا مذہبی جواز نہیں ہے۔تشدد پسندی، چاہے اسے کسی بھی مذہبی لبادے میں پیش کیا جائے، اسلام کی اصل تعلیمات کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
آج اس بات کی ضرورت ہے کہ تکفیر، تشددپسندی اور انتہا پسندی کو اسلام سے واضح طور پر الگ کیا جائے اور انہیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مسترد کیا جائے۔ اسلام کا راستہ انصاف، رحمت اور انسانی وقار کا راستہ ہے۔ ہندوستانی تناظر میں تکفیر کو مسترد کرنا صرف مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔ یہی نقطہ نظر مسلم معاشرے کو اندرونی طور پر مستحکم بنائے گا اور ملک کے مشترکہ جمہوری ورثے کو بھی مضبوط کرے گا۔












