نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی اور برازیل کے صدر لوئیس اناسیو لولا دا سلوا کے درمیان بات چیت سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں نئی توانائی آئی ہے اور دونوں فریقوں نے اگلے پانچ برسوں میں دو طرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر (تقریباً 1,814.5 ارب روپے) کے پار لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اے آئی سمٹ میں شرکت کے لیے ہندوستان آنے والے مسٹر لولا دا سلوا کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں، مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ برازیلی صدر کے دورے سے ہند-برازیل اسٹریٹجک شراکت داری میں نئی طاقت آئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، "صدر لولا دا سلوا کے دورے سے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری میں نئی توانائی آئی ہے۔ برازیل لاطینی امریکہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ہم اگلے پانچ برسوں میں اپنی دو طرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر (تقریباً 1,814.5 ارب روپے) کے پار لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہماری تجارت صرف اعداد وشمار نہيں ہے؛ یہ باہمی اعتماد کی عکاسی ہے۔” مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ مسٹر لولا دا سلوا کے ہمراہ آنے والا بڑا تجارتی وفد اس رشتے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مرکوسور تجارتی معاہدے کی توسیع سے اقتصادی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا، "ہم مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹر، سیمی کنڈکٹر، اور بلاک چین جیسے شعبوں میں بھی اپنے تعاون کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو شمولیتی ہونا چاہیے اور اسے مشترکہ ترقی کے لیے ایک پل کا کام کرنا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ توانائی کا تعاون ہمارے تعلقات کا مضبوط ستون رہا ہے۔ ہائیڈرو کاربن کے ساتھ ساتھ، ہم قابل تجدید توانائی، ایتھنول کی ملاوٹ، اور پائیدار ہوابازی کے ایندھن میں تعاون جیسے کئی شعبوں میں تیزی لا رہے ہیں۔ گلوبل بائیو فیول الائنس” میں برازیل کی شرکت سرسبز مستقبل کے تئيں مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں ہمارا تعاون نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے گلوبل ساؤتھ کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک برازیل میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کولیشن فار ڈیزاسٹر ریسیلینٹ انفراسٹرکچر (سی ڈی آر آئی) کی شریک سربراہی کی برازیل کی تجویز کا بھی خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس اقدام پر صدر دا سلوا کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اس سے قبل صدر دا سلوا اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے، مسٹر نریندر مودی نے گزشتہ سال برازیل کے اپنے دورے کے دوران اپنے پُرتپاک استقبال کے لیے ان کی ستائش کی۔ انہوں نے مسٹر دا سلوا کی قیادت کو دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی میں اہم قرار دیا۔ حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ بات چیت کے بعد، دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں ہندوستان اور برازیل کے درمیان متعدد سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، "ہندوستان-برازیل کے تعلقات کو طویل عرصے سے صدر دا سلوا کے وژن اور قیادت سے فائدہ ملا ہے۔ مجھے حالیہ برسوں میں کئی بار ان سے ملنے کا موقع ملا ہے اور ہر ملاقات کے دوران میں نے ہندوستان کے تئيں ان کی گہری دوستی اور اعتماد کو محسوس کیا ہے۔” مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ نایاب معدنیات اور دھاتوں کے شعبے میں طے پانے والا معاہدہ مضبوط سپلائی چین کی طرف بڑا قدم ہے۔ دفاعی شعبے میں بھی ہمارا تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک کوآرڈینیشن کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس باہمی فائدہ مند شراکت داری کو مضبوط کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک مستقبل کی ضروریات کے مطابق زراعت اور مویشی پروری میں اپنی شراکت داری کو نئی جہتیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ” برازیل میں تیل کے بیج، دالوں اور مربوط زراعت کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس اس سمت میں اہم اقدام ہو گا۔” مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان صحت اور ادویات کے شعبے میں تعاون کے بے پناہ امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم ہندوستان سے برازیل کو سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔ اس کے علاوہ، مجموعی صحت کی نگہداشت کو فروغ دینے کے لیے برازیل میں آیوروید اور روایتی ادویات کو بھی فروغ دیا جائے گا۔” وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اور برازیل گلوبل ساؤتھ کی آواز اٹھانا جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا، "عالمی سطح پر ہندوستان اور برازیل کے درمیان شراکت مضبوط اور اثردار رہی ہے۔ جمہوری ممالک کے طور پر، ہم گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات اور خواہشات کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جب ہندوستان اور برازیل ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو گلوبل ساؤتھ کی آواز اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔ انہوں نے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، "ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہر مسئلہ کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ہندوستان اور برازیل اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی اور اس کے حامی پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔ ہم اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ معاصر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاح ضروری ہے۔ ہم اس سمت میں ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔” مسٹر نریندر مودی نے امید ظاہر کی کہ مسٹر دا سلوا کے دورے سے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری مزید گہری ہوگی۔












