نئی دہلی، (یو این آئی) انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے اتوار کے روز ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور کسان دشمن قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان حالات کے حوالے سے جن میں یہ معاہدہ طے پایا، وزیراعظم نریندر مودی سے تین سوالات کیے ہیں۔ ایک بیان میں مسٹر رمیش نے کہا، معاہدہ کرنا ٹھیک ہے، لیکن یہ یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ ڈیل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان صرف دیتا رہے گا اور بدلے میں کچھ حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان نے غیر متناسب رعایتیں دی ہیں، جن میں امریکہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے اور روس سے تیل کی خریداری روکنے کا عہد شامل ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم امریکہ سے اپنی درآمدات کو تین گنا کر دیں گے اور روس سے تیل نہیں خریدیں گے۔ اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوا؟اس معاہدے کو زرعی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئےمسٹر رمیش نے کہا، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک یکطرفہ معاہدہ ہے، یہ کسانوں کے گلے میں پھندے کی مانند ہے۔ یہ کسان دشمن معاہدہ ہے۔ مسٹر رمیش نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2 فروری کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا بھی حوالہ دیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی سے دوستی اور احترام کی خاطر اور ان کی درخواست پر امریکہ نے فوری اثر سے تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔مسٹر رمیش نے کہا، ہمارے پاس وزیراعظم کے لیے تین بالکل سادہ اور براہِ راست سوالات ہیں۔ صدر ٹرمپ واضح طور پر کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی درخواست پر امریکہ اس تجارتی معاہدے پر اتفاق کر رہا ہے اور اسے فوری طور پر نافذ کر رہا ہے۔ ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ: 2 فروری کو آخر کیا ہوا تھا؟ وہ کیا مجبوری تھی جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو اس تجارتی معاہدے کا اعلان کرنا پڑا؟کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نےٹیرف سے متعلق امریکی سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے سے آگاہ ہونے کے باوجود عجلت میں کام لیا۔ انہوں نے پوچھا، آپ جانتے تھے کہ امریکی سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنانے والی ہے، تو آپ نے اتنی جلدی کیوں کی؟مسٹر رمیش کے مطابق، عدالت کے فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے محصولات کو 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا۔ انہوں نے وزیراعظم سے دوسرا سوال کرتے ہوئے کہا، اب جبکہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف بدل دیا ہے، تو کیا آپ ہمت دکھائیں گے اور کہیں گے کہ زراعت پر لگائے گئے ٹیکس کو یا تو ختم کیا جائے یا کم کیا جائے؟مسٹر رمیش کا تیسرا سوال روس سے ہندوستان کی تیل کی درآمدات سے متعلق تھا۔ انہوں نے پوچھا، صدر ٹرمپ بار بار کہتے ہیں کہ آپ نے روس سے تیل نہ خریدنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ آپ کہتے ہیں کہ ہم اسے خریدیں گے، تو سچ کیا ہے؟ آپ اسے کیوں چھپا رہے ہیں؟اس معاہدے میں عدم توازن پر زور دیتے ہوئے جے رام رمیش نے دلیل دی کہ ایک حقیقی سودے میں باہمی لین دین ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ایک متوازن سودے کا مطلب توازن ہے – یعنی کچھ دینا اور کچھ لینا۔ عام زبان میں ڈیل کا مطلب لینا دینا ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ صرف دیتے ہیں اور کچھ نہیں لیتے اور لیتے کم اور دیتے زیادہ ہیں – جیسا کہ اس میں ہوا ہے – تو اسے معاہدہ نہیں کہا جا سکتا۔ ہم اسے ڈیل کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہ ڈیل نہیں، یہ دباؤ ہے۔ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کو حکومت کی جانب سے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک قدم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔












