دیوبند،سماج نیوز سروس : نماز تراویح کا جماعت کے ساتھ اہتمام کرنا اجماع امت سے ثا بت ہے۔ تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے، یعنی اگر محلہ کی مسجد میں تروایح کا اہتمام نہ ہو تو پورا محلہ گنہگار ہوگا،لیکن اگر چند افراد نے بھی اہتمام کرلیا تو پورا محلہ بری الذمہ ہوجائے گا۔ رمضان المبارک میں نماز تراویح کی ادائیگی سے متعلق ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی محمد عارف قاسمی نے کیا۔ انہو ں نے کہا کہ عہد فاروقی کے اوائل تک صحابہ کرام الگ الگ اور غیرحفاظ صحابی کسی حافظ قرآن صحابی کی اقتدا میں نماز تراویح ادا کیا کرتے تھے ۔ بعد ازاں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ نے ایک امام کی اقتدامیں 20رکعت نماز تراویح باجماعت ادا کرنے کی بنیاد ڈالی۔ جس پر شرق وغرب کی امت مسلمہ کا تسلسل کے ساتھ تعامل رہا ہے اور انشاء اللہ یہ سلسلہ تاقیامت جاری وساری رہے گا۔ انہو ںنے کہا کہ اس لئے ہر شخص باجماعت نماز تراویح کی ادائیگی کا اہتمام کرے۔ مفتی عارف قاسمی نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز تراویح باجماعت ادا نہ کرنا بھی ہم گنہ گاروں کے حق میں رحمت ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو راتوں میں نماز تراویح مسجد میں ادا کی ۔ اس موقع پر صحابہ کرام کی کثیر تعداد موجود رہی ، پھر تیسرے اور چوتھے دن صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز تراویح ادا کرنے کی سعادت کے لئے مضطرب رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے اور اگلی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ تم نے جو کیا وہ میں نے دیکھ لیا لیکن میں گھر سے اس لئے نہیں نکلا کیوں کہ مجھے یہ خدشہ ہوا کہ نماز تراویح بھی تم پر فرض قرار نہ دیدی جائے۔ مفتی عارف قاسمی نے کہا کہ حضرت عمر فاروقؓ کانماز تروایح باجماعت ادا کئے جانے کی بنا ڈالنا امت مسلمہ کے لئے باعث رحمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلا فائدہ یہ ہے کہ عام طور پر جب کوئی شخص کسی کام کو تنہا کرتا ہے تو اس میں تاخیر اکثر واقع ہوتی رہتی ہے لیکن اسی کام میں اگر اجتماعیت قائم کردی جائے تو انسان اس کام کو پوری قوت وتوانائی کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ باجماعت نماز ادا کرنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اسی لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ باجماعت نماز ادا کرنا تنہا نماز پڑھنے پر 27درجے فضیلت رکھتا ہے اور تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اجتماعی عبادت میں اگر کسی ایک مقبول بارگاہ بندے کی عبادت قبول ہوجائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ سب کی عبادت کو شرف قبولیت عطا کرتا ہے۔ مفتی عارف قاسمی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے جب اخلاق کے ساتھ نماز تراویح پڑھتے ہیں تو ان میں بھی اللہ کے محبوب بندوں کی صفات پیدا ہونے لگتی ہے ۔












