ناظم بیگ
بلند شہر ،سماج نیوزسروس : کوتوالی دیہات علاقے کے گنورہ شیخ گاؤں میں کنواں پوجن اور جاگرن کے دوران ڈی جے بجانے پر دلت برادری کے افراد پر شہ زوروں کے ذریعے حملہ کرنے کا معا ملہ سامنے آیاہے ۔حملے میں ایک خاتون اور ایک نوجوان سمیت تین سے چار افراد زخمی ہوگئے۔ الزام ہے کہ دوسرے فریق نے پہلے نماز کا وقت ہونا کہہ کر ڈی جے بند کر ادیا اور پھر نماز کے بعدحملہ اور مارپیٹ کی گئی ۔پو لیس نے 14 نامزد اور 50 نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ گاؤں میں امن برقرار رکھنے کے لیے پولیس فورس کو تعینات کیا گیاہے ۔ اطلاع کے مطا بق پیر کو گائوں کے رہنے والے آکاش کمار ولد جگدیش کے گھرپر کنواں پو جن اور جاگرن کا پروگرام تھا ۔ الزام ہے کہ پروگرام میں ڈی جے بجانے پر دوسر ے فر یق کے کچھ لوگ وہا ں پہنچے اور نماز کاوقت ہونے کی بات کہہ کر ڈی جے بندکرادیا ۔جب نماز ختم ہوگئی تو وہی لوگ آئے اور دوبارہ ڈی جے بجانے کو کہا۔ الزام ہے کہ ڈی جے بجانے کے کچھ ہی دیر بعد گاؤں پر دھان معین، مطلوب، عادل، اکرم، قاسم، فیروز، بابر، شمشاد، سلمان، عادل ولد جمال، فردین، ارباز، آصف، گلفام اور تقریباً 50-60 نامعلوم افراد لاٹھی ڈنڈے لے کر پہنچے اور ڈی جے بجانے پر متاثرہ لوگوں کے سا تھ مارپیٹ شروع کردی ۔ متاثرہ آکاش کا الزام ہے کہ حملہ آوروں نے ذات پات کی گالیوں کا استعمال کیا اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ حملے میں آکاش کی چچی اور ایک نوجوان سمیت تین چار افراد زخمی ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے ملزمان کو سمجھا کروہا ں سے واپس بھیج دیا ۔ اس واقعہ کے بعد گاؤں میں کشیدگی پھیل گئی جس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی گئی۔ پولیس نے متاثرہ آکاش کی شکایت کی بنیاد پر 14 نامزد اور 50 نامعلوم ملزمان کے خلاف رپورٹ درج کی ہے۔ ایس پی سٹی شنکر پرساد نے بتایا کہ یہ رپورٹ متاثرین کی شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی ہے۔ نامزد ملزمان کی گرفتاری اور نامعلوم افراد کی شناخت کے لیے کارروائی جاری ہے ۔ امن خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ منگل کو اس واقعے کی کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ وائرل ویڈیو میں کئی لوگ اکٹھے ہو کر دلت فریق کی خواتین اور مردوں کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ گائوں میں امن برقرار رکھنے کے لیے پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔












