تہران:اسرائیلی اخبار "معاریف” کی رپورٹ کے مطابق تین عوامل ایسے ہیں جو ایران پر امریکی حملے کے وقت کا تعین کر سکتے ہیں۔پہلا عامل اسٹیٹ آف دی یونین” خطاب کا متن ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی مدتِ صدارت میں پہلا خطاب ہوگا اور وہ اسے بدھ کی صبح کانگریس کے سامنے پیش کریں گے۔دوسرا معاملہ آج ایرانیوں کی جانب سے دیے جانے والے اس جواب سے متعلق ہے جو امریکہ کو ایٹمی معاملے کے معاہدے کے مسودے کے حوالے سے پیش کیا جائے گا، ایسے وقت میں جب امریکی مندوبین جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف سفارتی عمل کو مکمل کرنے اور جمعرات کو جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ فیصلہ کن ملاقات کے لیے کوشاں ہیں۔”معاریف” کے مطابق ابتدائی ایرانی رد عمل ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم اشارہ ہے، کیونکہ یہ حملے کی راہ ہموار کر سکتا ہے، اس کے لیے جواز فراہم کر سکتا ہے اور ان کے فیصلے کو داخلی سطح پر قانونی جواز دے سکتا ہے۔تیسرا معاملہ جس کا براہِ راست تعلق اسرائیل سے ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی آمد ہے، جن کا بدھ کی صبح سے جمعرات تک اسرائیل کا دورہ مقرر ہے۔ان تین اشاروں کے ساتھ معاریف” کا کہنا ہے کہ خود اسرائیلی فوجی نظام بھی یہ نہیں جانتا کہ حملے کی تاریخ کون اور کیسے طے کرے گا اور اس کا مکمل طریقہ کار اور اس سے امریکی مقاصد کیا ہوں گے۔اسرائیلی فوجی ذرائع اس دورانیے کو اشتعال انگیز” قرار دیتے ہیں، کیونکہ کوئی بھی درست پیش گوئی نہیں کر سکتا۔ اس لیے اخبار کے مطابق دفاع یا حملے کے مختلف منظرناموں کے لیے تیاری کی ضرورت ہے۔”معاریف” مزید لکھتا ہے کہ اسرائیلی فوج نہ صرف ایران کے خلاف بلکہ یمن سے لے کر لبنان تک پورے میدانِ جنگ میں تیاری کر رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں دھمکی دی تھی کہ اگر ایران اپنے ایٹمی عزائم کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر نہ پہنچا تو اسے ایک انتہائی برے دن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں جو بھی فیصلہ لیا جائے گا اس کے مالک وہ خود ہیں۔ انہوں نے اس کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگ میں آسان فتح کی طرف اشارہ کیا۔امریکی صدر نے ایران کے خلاف بڑے حملے کے حوالے سے اپنے چیف آف اسٹاف کے ساتھ کسی بھی اختلاف کی نفی کی ہے، تاہم واشنگٹن پوسٹ” نے اپنے ذرائع سے نقل کیا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان اختلاف حقیقی ہے۔ویب سائٹ ” کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند روز قبل ایران کے خلاف فوجی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، لیکن آخری لمحے میں انہوں نے سفارتی راستے کو دوسرا موقع دینے کا فیصلہ کیا۔جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متنبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی مہم سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے، خواہ وہ علاقائی کشیدگی کی سطح پر ہو یا محاذ آرائی کے دائرہ کار کی وسعت کے لحاظ سے۔ مذکورہ ویب سائٹ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ ان حملوں کے فائدے کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھا رہی ہے کہ مرتب ہونے والے خطرات کے مقابلے میں کس چیز کو کامیابی قرار دیا جا سکے گا۔توقع ہے کہ ایران آج ایٹمی معاملے کے معاہدے کا مسودہ امریکہ کو پیش کرے گا۔ اسرائیلی ویب سائٹ "i24 کے مطابق، امریکی انتظامیہ تہران سے ایک تفصیلی دستاویز کی توقع کر رہی ہے جس میں ایسی ٹھوس تجویز شامل ہو جس پر جمعرات کو جنیوا میں ہونے والی ملاقات میں بحث کی جا سکے۔امریکی حکام کے مطابق، متوقع پاک – امریکی ملاقات کا انعقاد ایران کی طرف سے پیش کیے جانے والے مسودے کے معیار پر منحصر ہے۔ اس کا امریکی انتظامیہ جائزہ لے گی تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا براہِ راست ملاقات کا کوئی فائدہ ہے، یا سفارتی تصفیے کے مواقع ختم ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی ذریعے نے i24 کو تصدیق کی ہے کہ اگر خلیج برقرار رہی تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اپنی ٹیم کو ملاقات کے لیے بھیجنا مشکل ہوگا۔












