بنگلور ، پریس ریلیز،ہمارا سماج: نماز جمعہ سے قبل ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمدجمال الدین صاحب صدیقی رشادی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم الدین گنگانگر بنگلور32نے خطبہ جمعہ میںروزہ کی فضیلت اور خصوصیت کے موضوع پر بصیرت افروز خطاب کرتے ہوے فرمایا روزہ اسلام کا ایک اہم ترین رکن اور اسلام کی عظیم الشان عمارت کا ایک بنیادی ستون ہے، روزہ فرائض اسلام دین کا اہم شعار اور عبادت ہے، روزہ کی بے شمار فضیلت ا ور خصوصیت ہے، روزہ بندگان مومن کیلے بہت بڑی سعادت اور نیک بختی کی علامت کا ذریعہ ہے، روزے کے اہتمام وپابندی سے اہل ایمان کی روح کو نورانیت اور قوت ایمانی حاصل ہوتی ہے،روزے کا مقصد تقویٰ اور طہارت ہے، روزہ کے ذریعہ گناہ و معصیت کی آلودگیوں سے بندہ کا دل پاک و صاف ہو جاتا ہے، روزہ ایک ایسی منفرد عبادت ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب کو پالیتا ہے، قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے امتوں کے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اس تو قع پرکہ تم روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ متقی بن جاو، سمجھنے کی بات ہے روزہ اﷲ رب العزت کے تقرب کا ذریعہ ہے،بندہ مومن جب روزے کا اہتمام کرتا ہے تو اس میں تقویٰ پیدا ہونے لگتا ہے اور جب روزے کی برکت سے یہ متقی بن جاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کو اپنا مقرب بنالیتے ہیں، پھر اس کا دل تقویٰ کی بنیاد پر نور ایمان محبت خداوندی اور قرب الہی سے اس قدر منور اور روشن ہو جاتا ہے جسکی وجہ سے اطاعت و فرماں برداری کی جانب گامزن رہتا ہے اﷲ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو پالیتا ہے، مولانا نے دوران خطاب فرمایا روزہ ایسی عظیم عبادت ہے جو بندہ مومن کو نیک و صالح بنادیتی ہے، روزہ دل میں تقویٰ و طہارت پیدا کردیتی ہے، روزہ دار بندہ مقربین الہی میں شمار ہوتا ہے، روزہ سے اہم اور خاص عبادت بارگاہ رب العالمین میں اور کون سی ہو سکتی ہے؟ حدیث قدسی ہے میرے بندے میرے لیے روزہ رکھتے ہیں میں خود بندوں کو روزوں کا بدلہ اور ثواب عطا کروں گا،ایک دوسری روایت اس طرح ہے میرے بندے میرے لیے روزہ رکھتے ہیںاور میں خود بندوں کیلے روزوں کا بدلہ ہوں مطلب یہ ہے روزہ کے ذریعہ بندہ اپنے رب کو پالیتا ہے،جس بندے کو رب مل جاے اسے دونوں جہاں کا خیر اور کامیابی مل گئی، مولانا نے دوران خطاب فرمایا اﷲ تعالیٰ کا فضل و کرم رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں برکتوں نعمتوں اور نوازشوں کے ساتھ عالم کے مسلمانوں پر سایہ فگن ہے اور مسلمانان عالم ان ایام سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں، ہر طرف ایمانی اعمالی ا ور نورانی ماحول ہے،مسجدیں اپنی وسعت کے باوجود عبادت گزاروں کیلے تنگ ہورہی ہیں، ہمہ وقت عبادتوں کا ہی منظر دکھائی دے رہا ہے، کیا مردکیا عورتیں،کیا بوڑھے کیا جوان،کیا بچے ہر ایک دوسرے پر نیکی میں سبقت لے جانے کامظاہرہ بڑے ہی خلوص اور اپنے خالق ومالک پاک پروردگار کی خوشنودی کیلے کررہے ہیں،حقیقت یہ ہے رحمت خداوندی بارش کے قطروں سے بھی زیادہ،ریت کے ذروں سے بھی زیادہ،بندوں پر برس رہی ہے،مولانا نے بیان کے آخر میں حاضرین سے گذارش کی رحمت والے اس مہینہ میں ہم اﷲ رب العزت سے خوب رحمت مانگیں،اپنے لیے اپنے اہل و عیال متعلقین رشتہ داروں دوست و احباب کیسا تھ پوری ملت اسلامیہ اور امت مسلمہ کیلے خصوصاََ اور عموماََ ساری انسانیت کی فلاح و بہبودی،خیر و عا فیت اور امن و سلامتی کیلے دعا مانگیں،عالم اسلام اور مسلمانوں کی عظمت و سر بلندی کیلے،باہمی اتحاد و اتفاق،ہمدردی و خیر خواہی کیلے، مسجد اقصیٰ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول کی بازیابی کیلے، فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی فلاح و بہبودی کیلئے، پریشان حال ممالک میں خیر اور امن کی بحالی کیلے، خانہ جنگی اور خون خرابہ سے متاثر جگہوں پر امن و فلاح کا ماحول پھر سے قائم ہو جانے کیلے، ملک ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی عظمت و سربلندی اور جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کیلے، اﷲ تعالیٰ ہم سب پر رمضان المبارک کی خاص رحمتوں برکتوں نعمتوں کا نزول فرمائے،ہمارا شمار اپنے مقربین بندوں میں فرماے۔












