کانپور،سماج نیوز سروس:رمضان المبارک محض عبادات اور ریاضتوں کا ہی نہیں، بلکہ خاص طور پر اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ، استغفار اور اپنے گناہوں کو معاف کروا کر رب کی رحمتوں کو لوٹنے کا مہینہ ہے۔ شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو توبہ کا وہ عظیم ہتھیار عطا کیا ہے، جس کا سچے دل سے استعمال شیطان کی زندگی بھر کی محنت پر ایک لمحے میں پانی پھیر دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے مسجد پھول باغ، کانپور میں نمازِ تراویح کے دوران قرآن کریم کا دور مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار اور روح پرور دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں مولانا قاسمی نے حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے اللہ سے قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرنے کی مہلت مانگی تھی اور وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ انسانوں کو نافرمان بنانے میں لگا ہوا ہے۔ انسان فطرتاً کمزور ہے اور گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ اگر کوئی بندہ 50 سال تک بھی گناہوں میں ڈوبا رہے اور پھر ایک دن سچے دل سے ندامت کے دو آنسو بہا کر اپنے رب سے معافی مانگ لے، تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء یوپی نے فرمایا کہ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں۔ روزے کا ثواب بے حساب ہے، تراویح پڑھنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں، اور شبِ قدر کی ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں (تقریباً 83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خود اعلان فرماتے ہیں کہ گناہ گارو! میری رحمت سے مایوس نہ ہونا، میرے دربار میں آؤ، میں معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہی وہ مہینہ ہے جب مساجد آباد ہوتی ہیں اور ایک مہینے کی یہ محنت شیطان کی پوری سال کی محنت کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ رمضان المبارک کے تیزی سے گزرتے ہوئے ایام پر توجہ دلاتے ہوئے مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اپنے شب و روز کا محاسبہ کریں کہ انہوں نے اب تک اپنے گناہوں کا رجسٹر صاف کرایا ہے یا نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس مبارک مہینے کے بقیہ ایام کی قدر کریں، فضول کاموں سے بچیں، اور یہ عزم لے کر اٹھیں کہ جب رمضان ہم سے رخصت ہو تو ہم گناہوں سے اس طرح پاک اور صاف ہو چکے ہوں جیسے کوئی بچہ ابھی ماں کی گود سے پیدا ہوا ہو۔












