تہران، (یواین آئی ) ایران کے دارالحکومت تہران پر ہفتے کی صبح ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس المناک خبر کی تصدیق کر دی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق شمالی تہران کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں شمیران میں واقع صدارتی محل اور سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کے قریب متعدد میزائل گرے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای اس وقت اپنے دفتر میں فرائض سرانجام دے رہے تھے جب یہ حملہ ہوا۔ایرانی میڈیا نے اتوار کے روز ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی صاحبزادی، داماد اور پوتی بھی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ انقلابی قیادت کے قریبی ذرائع نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جس نے ایرانی قیادت کو گہرا دھچکا پہنچایا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ایرانی عوام کے لیے یہ حکومت بدلنے کا ایک بڑا موقع ہے”۔ دوسری جانب ایران نے اس حملے کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ترین جوابی کارروائی اور بڑے حملے کی دھمکی دی ہے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی و اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا ہے۔ اس پیغام میں ایرانی قوم کے عزم اور اسلامی اصولوں پر ثابت قدمی کا اظہار کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، اپنی ہلاکت سے قبل جاری کردہ پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ "ایرانی قوم اپنے اسلامی اسباق کو اچھی طرح جانتی ہے، اور اسے بخوبی علم ہے کہ (ایسے حالات میں) کیا کرنا ہے”۔واضح رہے کہ تہران پر ہونے والے اس بڑے حملے میں نہ صرف سپریم لیڈر بلکہ ان کی صاحبزادی، داماد اور نواسی بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا نے مزید تصدیق کی ہے کہ حملے میں ایران کے وزیرِ دفاع، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ اور سپریم لیڈر کے مشیرِ اعلیٰ علی شامخانی بھی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔حکومتِ ایران نے اس عظیم سانحے پر ملک بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے، جس دوران تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہیں گے۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور امریکہ و اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کے خلاف اتوار کے روز تہران سمیت تمام صوبوں میں لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے شہداء کے لہو کا بدلہ لینے اور مزاحمت کا راستہ جاری رکھنے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔ اصفہان، اہواز اور تہران میں لاکھوں کے اجتماعات دیکھے گئے جہاں لوگ مسلسل بمباری کے باوجود سڑکوں پر موجود رہے اور "مرگ بر امریکہ” اور "مرگ بر اسرائیل” کے نعرے لگائے۔ انسانی جانوں کا ضیاع تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہرمزگان میں لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر حملے میں 148 طالبات شہید ہو چکی ہیں، جبکہ صوبہ فارس میں اسپورٹس ہال پر حملے کے نتیجے میں 20 والی بال پلیئرز جاں بحق ہوئیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس جارحیت کو خطے کا جغرافیہ بدلنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ عوامی اجتماعات میں اس بات پر فخر کا اظہار کیا گیا کہ ان کے قائد کسی بنکر میں چھپنے کے بجائے اپنے دفتر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران عوام کے درمیان شہید ہوئے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے ملک کے سب سے طاقتور شخص اور رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں سپریم لیڈر اس وقت نشانہ بنے جب وہ اپنے دفتر میں سرکاری فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ایرانی میڈیا کے مطابق، یہ "بزدلانہ حملہ” ہفتے کی صبح کی اولین ساعتوں میں تہران میں واقع رہبرِ معظم کے دفتر پر کیا گیا۔ شہادت کے وقت آیت اللہ خامنہ ای اپنے تفویض کردہ فرائض کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ اس حملے نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اس حملے میں صرف سپریم لیڈر ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان کے قریبی افراد بھی نشانہ بنے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی صاحبزادی، داماد اور نواسی بھی مارے گئے ہیں۔ مزید برآں، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اہم کمانڈر محمد پاکپور اور سپریم لیڈر کے مشیرِ اعلیٰ علی شامخانی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جو ایرانی قیادت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ایران کی حکومت نے رہبرِ معظم کی عظیم قربانی کے سوگ میں ملک بھر میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام سرکاری و نجی ادارے 7 روز کے لیے بند رہیں گے تاکہ قوم اپنے عظیم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کر سکے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایرانی سرزمین پر ہزاروں نئے اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔












