کراچی، (یواین آئی ) ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں اور ایرانی قیادت کی شہادت کے خلاف پاکستان کے شہر کراچی میں شدید احتجاجی لہر دوڑ گئی۔ مذہبی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے نکالے گئے احتجاجی مارچ کے دوران امریکی قونصلیٹ کے قریب پولیس اور مظاہرین کے درمیان سخت جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں افسوسناک طور پر 8 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔رپورٹس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے قونصل خانے پر پتھراؤ کیا اور سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں پولیس نے شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ہوائی فائرنگ کی۔مظاہرے کا آغاز نمائش چورنگی سے ہوا جہاں مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ شرکا نے "امریکہ مردہ باد” اور "اسرائیل مردہ باد” کے نعرے لگائے۔ جب مظاہرین نے ریڈ زون میں واقع امریکی قونصل خانے کی جانب پیش قدمی کی تو پہلے سے تعینات پولیس نفری نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی اور دونوں جانب سے تصادم شروع ہو گیا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایران کے خلاف جارحیت دراصل پوری امتِ مسلمہ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات پر فوری نظرِ ثانی کی جائے اور ایران کے ساتھ اعلانیہ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دوٹوک خارجہ پالیسی اپنائی جائے۔کراچی کے علاوہ عباس ٹاؤن، ٹاور اور دیگر شہروں میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر امریکی اور اسرائیلی پرچم بچھا کر ان پر کھڑے ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، جبکہ کئی مقامات پر پرچموں کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ مظاہرین نے انتباہ کیا کہ اگر ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں فوری طور پر بند نہ کی گئیں تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔حالیہ ہلاکتوں کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں فضا سوگوار اور انتہائی کشیدہ ہے۔ حکومت نے شہر کے حساس علاقوں، خصوصاً سفارتی دفاتر کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور رینجرز و پولیس کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔












