بیجنگ/ماسکو، (یو این آئی ) چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں عالمی طاقتوں نے یکطرفہ فوجی کارروائیوں کی مشترکہ مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے دورانِ گفتگو سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب جوہری مذاکرات جاری تھے، امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اسے عالمی سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیا۔وانگ ای نے اپنے روسی ہم منصب سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایک خود مختار ملک کے رہنما کا قتل اور وہاں کی حکومت کی تبدیلی کے لیے عوام کو اکسانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ان کا اشارہ ایران میں حالیہ قیادت کی شہادت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی جانب تھا، جسے انہوں نے عالمی امن کے لیے خطرناک قرار چین نے اپنے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں۔تمام فریقین اشتعال انگیزی ترک کر کے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔یک طرفہ اقدامات اور طاقت کے استعمال کی عالمی سطح پر مخالفت کی جائے۔روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے چینی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک سلامتی کونسل اور دیگر عالمی فورمز پر اس جارحیت کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین اور روس کا یہ قریبی رابطہ امریکہ اور اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔












