تہران/بغداد/صنعاء، (یو این آئی ) ایران کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر عام ہوتے ہی اسلامی دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یمن، عراق اور فلسطین کی قیادت نے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت انتقام کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یمن کا موقف: یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل اور انصار اللہ نے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ سید علی خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی امریکہ اور صیہونی دشمن کے خلاف جہاد میں گزاری۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور یہ شہادت مزاحمتی تحریک کو مزید توانائی دے گی۔
عراق میں تین روزہ سوگ: عراقی حکومت نے اس حملے کو انسانی اور اخلاقی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ عراقی کوارڈینیشن فریم ورک نے شہید لیڈر کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا ہے۔
فلسطینی مزاحمت: فلسطینی مجاہدین موومنٹ نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی شہادت امتِ مسلمہ کے لیے بڑا نقصان ہے، تاہم بزدلانہ قتل و غارت گری سے مزاحمت کا جذبہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے شہید کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ایران میں 40 روزہ سوگ: ایرانی حکومت نے ملک میں 40 روزہ سوگ اور 7 روزہ سرکاری تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ یہ جرم بے جواب نہیں رہے گا۔
شہادت کے وقت کی تفصیل: ایرانی میڈیا کے مطابق، سید علی خامنہ ای ہفتے کی صبح اپنے دفتر میں فرائض کی ادائیگی کے دوران امریکی اور اسرائیلی مشترکہ جارحیت کا نشانہ بنے۔ رپورٹ میں ان دعوؤں کی تردید کی گئی کہ وہ کسی خفیہ مقام پر تھے، بلکہ وہ اپنے عوام کے درمیان محاذِ عمل پر موجود تھے۔
سید علی خامنہ ای 86 برس کی عمر میں شہید ہوئے۔ انہوں نے 1989 سے ایران کی قیادت کی اور چار دہائیوں تک ایران کی سیاسی اور مذہبی سمت کا تعین کیا۔ ان کے دور میں ایران نے ایٹمی پروگرام اور دفاعی ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی کی اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف ایک مضبوط دیوار بنے رہے۔












