کانپور،سماج نیوز سروس: جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے مکو شہید کا بھٹہ، اخلاق نگر (گنگاپار) اور گجو پوروہ (جاجمئو) میں تراویح کے دوران تکمیل قرآن کی مبارک مناسبت سے منعقدہ عظیم الشان دعائیہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمیں زندگی گزارنے کا حقیقی سلیقہ سکھاتا ہے۔ مسلمان ہونے کا اصل مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی، اپنی عبادات، معاملات، کمائی، شادی بیاہ اور معاشرت کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے تابع کر دیں۔ ان تقریبات میں فرزندانِ توحید نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے اپنے ایمانی جذبوں کا ثبوت دیا۔ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اپنے خطاب میں مدارس اسلامیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مدارس دین کے قلعے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان سے جڑیں اور اپنے بچوں کو دین سکھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر مسلمان مرد و عورت پر اتنا دینی علم حاصل کرنا فرضِ عین ہے جس کے بغیر وہ شریعت کے مطابق زندگی نہ گزار سکے۔ نماز، روزہ، وضو، طہارت، حلال و حرام اور زکوٰۃ کے بنیادی مسائل سے واقفیت ہر مسلمان کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ علم علماء کرام کی سرپرستی اور مساجد کے ائمہ سے وابستہ ہو کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء اتر پردیش نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم نے اپنی زندگیوں کو دنیاوی رسوم و رواج کے حوالے کر دیا ہے اور شریعت کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایمان کی دولت سے نوازا ہے، جو جنت میں جانے کی اولین شرط ہے۔ اس عظیم نعمت کی قدردانی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ رمضان المبارک کی فضیلت اور اس میں مغفرت کے حوالے سے احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس شخص کے لیے ہلاکت اور بربادی کی بددعا فرمائی ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنے گناہوں کی مغفرت نہ کروا سکا، اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس مبارک مہینے میں ہم جھوٹ، غیبت، بدنگاہی اور دیگر تمام گناہوں سے پکی توبہ کریں اور اللہ کو راضی کریں۔ روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کے ہر حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔ مولانا قاسمی نے عوام میں پائی جانے والی ایک عام غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے صراحت کی کہ تراویح میں ایک مرتبہ قرآن پاک کا سننا ایک سنت ہے، جبکہ پورے مہینے کی تراویح پڑھنا مستقل سنتِ مؤکدہ ہے۔ لہٰذا تکمیلِ قرآن کے بعد بھی پورے ماہِ مبارک تراویح کی پابندی لازمی ہے۔ تقریب کے اختتام پر حال ہی دنیا سے رخصت ہوئے مسجد جبل کے سابق امام مولانا عبدالغفار صاحب ؒ اور دیگر مرحومین کے درجات کی بلندی، مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کروائی گئی۔ دعائیہ نشست میں موجود کثیر مجمع نے انتہائی رقت آمیز مناجات میں شریک ہو کر اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی طلب کی۔












