نئی دہلی۔ ایم این این۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیر کے روز کہا کہ بھارت اور امریکہ کو جدید بائیو مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ایک منظم بھارت۔ڈیلاویئر شراکت داری کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک چھوٹا ورکنگ گروپ قائم کیا جائے تاکہ جاری مباحثوں کو تحقیق، مینوفیکچرنگ اور اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام میں ٹھوس تعاون میں تبدیل کیا جا سکے۔یہ تجویز اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے آج یہاں سیوا تیرتھ میں ڈیلاویئر کے گورنر میٹ مائر کی قیادت میں آنے والے امریکی وفد سے ملاقات کی۔دونوں فریقین نے دواسازی، بائیوٹیکنالوجی، صاف توانائی اور جدت پر مبنی صنعتی ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور بائیوٹیکنالوجی بھارت۔امریکہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایسے امریکی ریاستوں کے ساتھ، جہاں مضبوط جدت پر مبنی ماحولیاتی نظام موجود ہے، مزید گہرے تعاون کے لیے’’ گہرے تعلقات کے لیےاچھی صلاحیت ‘‘ دیکھتا ہے۔انہوں نے بائیوٹیکنالوجی اور دواسازی کی جدت کے شعبے میں بھارت کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کو بھی اجاگر کیا، جہاں تحقیق و ترقی سے لے کر بڑے پیمانے پر، کم لاگت اور مؤثر مینوفیکچرنگ تک جامع صلاحیتیں موجود ہیں۔حکومت ، تعلیمی اداروں ، صنعت اور اسٹارٹ اپس کو جوڑنے والے بھارت کے مربوط اختراعی ڈھانچے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) 37 لیبارٹریوں اور 7,500 سے زیادہ سائنسدانوں کے ساتھ ملک کی صنعتی تحقیق و ترقی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے گرین ہائیڈروجن اور کوانٹم ٹیکنالوجیز سے لے کر بائیو سائنسز اور بائیو فارما تک کے قومی مشنوں میں سی ایس آئی آر کے کردار اور اہم دواؤں کی ترقی کے عمل میں اس کے تعاون کا ذکر کیا ۔ڈیلاویئر کے بایو سائنس ماحولیاتی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اِنّوویشن اِن مینوفیکچرنگ بایوفارماسیوٹیکلز (این آئی آئی ایم بی ایل) بھی شامل ہے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جدید بائیو مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت سے مربوط عمل، تیز رفتار اسکیل اپ ٹیکنالوجیز اور اگلی نسل کے بائیولوجکس اور ویکسینز کے شعبوں میں تعاون کے لیے’’ مضبوط امکانات‘‘ موجود ہیں۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ کم لاگت اور مؤثر مینوفیکچرنگ میں بھارت کی مہارت، ڈیلاویئر کی بڑی امریکی دواساز کمپنیوں سے قربت کے ساتھ مل کر عالمی صحت کی ضروریات کے لیے سستی بائیولوجکس، بائیوسِملرز اور ویکسینز کی مشترکہ تیاری (کو-ڈیولپمنٹ) کو فروغ دے سکتی ہے۔












