صادق شروانی
نئی دہلی،سماج نیوز سروس: دہلی حج کمیٹی 2026 کی تشکیل کر دی گئی ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق دہلی حج کمیٹی کی تشکیل کر دی گئی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی ہوگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان کی جانب سے دہلی حج کمیٹی کی فائل کو منظوری کے بعد دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے دفتر سے ہوتے ہوئے یہ فائل ایل جی کے پاس پہنچی اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ کے دفتر سے بھی منظور مل گئی ہے۔ تاکہ حج 2026 میں بھی گذشتہ سال کی طرح دہلی کے عازمین حج کو بہتر سے بہتر سہولات دستیاب کرائی جاسکیں۔ ایک دو روز میں اس کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔ حالانکہ دہلی حج کمیٹی کی تشکیل نو میں ایک چونکانے والی بات یہ ہے کہ پرانی کمیٹی کو ہی بحال کر دیا گیا ہے۔جس کے مطابق دہلی حج کمیٹی کی کمان گذشتہ ٹرم کی طرح کوثر جہاں کے ہاتھوں میں رہے گی۔ اور اس طرح دہلی حج کمیٹی دوبارہ کمان سنبھالنے والی پہلی خاتون کوثر جہاں ہوں گی۔کمیٹی کے بقیہ ممبران بھی تقریباً پہلے کی طرح ہی رہیں گے۔جہاں بدلائو کی ضرورت ہے وہاں بدلائو دیکھنے کو مل سکتا ہے۔پتا چلا ہے کہ اس میں کم سے کم بدلائو کیا جائے گا، جیسے گذشتہ فروری 2023 میں تشکیل دی گئی کمیٹی کے مطابق کوثر جہاں کو مسلم آرگنائزیشن کے ذریع نومینیٹ کیا گیا تھا تو وہیں ممبر پارلیمنٹ کے زمرے میں گوتم گمبھیر جبکہ ممبران اسمبلی کے کوٹے سے عام آدمی پارٹی کے ممبراسمبلی عبدالرحمان اور مصطفےٰ آباد ممبر اسمبلی حاجی یونس کو ممبر بنایا گیا تھا۔ لیکن اب یہ دونوں ہی ممبر اسمبلی نہیں ہیں۔ جبکہ کونسلر کے زمرے سے اوکھلا کونسلر نازیہ دانش اور اسلامی اسکالر کے طور پر حافظ جاوید کے بیٹے محمد سعد کو نامزد کیا گیا تھا۔ حج کمیٹی 2023 کا کام کاج گذشتہ فروری 2026 کو ختم ہوگیا تھا۔ اور دیگر مسلم اداروں کی طرح حج کمیٹی بھی بغیر چیئرپرسن کے کام کر رہی ہے۔ اگر دہلی کے مسلم اداروں کی بات کریں تو دہلی وقف بورڈ غازی پور مرغا مچھلی منڈی، دہلی اقلیتی کمیشن اور دہلی حج کمیٹی وغیرہ کی ابھی تک تشکیل نہیں کی گئی ہے۔ اس طرح کے تمام ادارے بغیر چیئرپرسن کی وجہ سے سرد مہری کا شکار ہیں۔ اور دہلی میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو ان اداروں سے کوئی واسطہ یا رابطہ معلوم نہیں ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دہلی حج کمیٹی کی سابق چیئرپرسن کوثر جہاں کو واپس دہلی حج کمیٹی کی کمان سونپنے کے لیے دہلی حج کمیٹی کی تشکیل دی جا رہی ہے۔ یہاں تک بتایا جاتا ہے کہ دہلی حج کمیٹی کے کچھ ممبران کو صرف اور صرف کوثر جہاں کو چیئرپرسن بنانے کے لیے ممبر منتخب کیا جا رہا ہے۔ اور ان ممبران میں کوئی بدلائو دیکھنے کو نہیں ملےگا۔حالانکہ چیئرپرسن کا انتخاب کرنے کے لیے باقاعدہ الیکشن ہوتا ہے جس میں دہلی حج کمیٹی کے ممبران ووٹنگ کے ذریعہ چیئرپرسن کا انتخاب کرتے ہیں جس میں نامزد کئے گئے مسلم ممبر پارلیمنٹ ایک، دہلی کے مسلم ممبران اسمبلی دو، دہلی میونسپل کارپوریشن کونسلر ایک، اور دہلی کے ہی ایک اسلامی اسکالر کو ووٹنگ کا حق دیا جاتاہے۔اب پتا یہ چلا ہے کہ دہلی میں کوئی مسلم ممبران پارلیمنٹ نہیں ہے۔ اس لیے دہلی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال کو دہلی حج کمیٹی ممبر بنایا گیا ہے تو وہیں ممبران اسمبلی کے کوٹے سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی مسلم ممبران اسمبلی نہیں ہے۔ اس لیے عام آدمی پارٹی کے ہی دو مسلم ممبران اسمبلی کا بطور دہلی حج کمیٹی ممبر بننے کا موقع ملے گا جبکہ کونسلر کے زمرے سے نازدیہ دانش اور اسلامی اسکالر کے طور پر مولانا محمد سعد کو ہی ممبر بنایا جائے گا۔بات چیت کرنے پر یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق چیئرپرسن کوثر جہاں کو دوبارہ دہلی حج کمیٹی کی کمان سونپنے کے طفیل میں ان ممبران کو پھر سے حج کمیٹی میں جگہ دی جا رہی ہے۔ حالانکہ سابق چیئرپرسن کوثر جہاں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔واضح رہے کہ دہلی حج کمیٹی ایکٹ 2002 کے مطابق دہلی حج کمیٹی کی تشکیل دی گئی۔ جس میں ریاست، یونین ٹیریٹری میں رہائش پذیر مسلمانوں کے نمائندے ، ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اور اسلامی اسکالر وغیرہ کا انتخاب کرکے حج کمیٹی کی تشکیل دی جاتی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد حاجیوں کو بہتر سے بہتر سہولیات اور انتظام کی نگرانی کرنا ہے۔ جس میں مسلم ممبران پارلیمنٹ، مسلم ممبران اسمبلی، شیعہ سنی اسلامی اسکالر اور حج منیجمنٹ سے متعلق ممبران کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کی مدت تین سال ہوتی ہے۔ یہ کمیٹی حج کمیٹی آف انڈیا کے ساتھ ساتھ مرکزی اقلیتی امور کے ماتحت کام کرتی ہے۔












