نئی دہلی، ایجنسیاں: دہلی کے اتم نگر میں ایک ہندو نوجوان کے ہولی کے رنگ میں رنگنے کے بعد قتل کے معاملے میں کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے اس معاملے کے مرکزی ملزم نظام الدین کے گھر کو بلڈوز کر دیا ہے۔ اس معاملے میں اب تک آٹھ گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔دوارکا کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کشال پال سنگھ نے بتایا کہ عمران عرف بنٹی (38) کو اس معاملے میں آٹھویں ملزم کے طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ مزید برآں، متوفی ترون کے اہل خانہ کے بیانات کی بنیاد پر، ایس سی/ایس ٹی پریوینشن آف ایٹروسیٹی ایکٹ کی سخت دفعات کو لاگو کیا گیا ہے۔ یہ قتل ہولی کی رات جے جے کالونی، اتم نگر میں پیش آیا۔ پولیس نے ترون کے قتل کیس میں اب تک آٹھ ملزمین کو گرفتار کیا ہے جن میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ گرفتار بالغ ملزمان کی شناخت عمر الدین، جام الدین، مشتاق، قمر الدین، مظفر، طاہر اور عمران کے نام سے ہوئی ہے۔ سبھی جے جے کالونی، ہستسل کے رہنے والے ہیں۔ ان میں عمرالدین، جام الدین اور قمرالدین بھائی ہیں، جب کہ باپ بیٹے کی جوڑی مظفر اور عمردین بھی شامل ہیں۔ ڈی سی پی کے مطابق، 4 مارچ کی رات 11:09 بجے پی سی آر کال موصول ہوئی۔ ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور معلوم ہوا کہ پانی کا غبارہ ایک لڑکی نے پھینکا تھا، جو دوسری کمیونٹی کی ایک خاتون سے ٹکرا گیا۔ دونوں گروپوں میں لڑائی ہوئی جس میں ایک گروپ کے تین اور دوسرے گروپ کے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ سبھی کو قریبی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس واقعے میں مرنے والے ترون کے علاوہ باقی سب کو فارغ کر دیا۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے ملزم کی جائیداد پر بلڈوزر آپریشن شروع کیا۔ حکام کے مطابق ملزمان کی جائیداد قرق کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس نے اب تک اس معاملے میں ایک نابالغ سمیت سات لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں ریپڈ ایکشن فورس اور پولیس اہلکار تعینات ہیں اور عوام کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ہولی کے موقع پر اتم نگر کی جے جے کالونی میں ایک نابالغ لڑکی کے پانی کا غبارہ پھینکنے پر مختلف برادریوں کے دو خاندانوں میں جھگڑا ہوا۔ بعد میں دوسری طرف نے لڑکی کے رشتہ دار ترون کو اس وقت مار مار کر ہلاک کر دیا جب وہ ہولی سے واپس آ رہا تھا۔ واقعہ پر علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔ گزشتہ جمعہ کو مشتعل لوگوں نے ملزم کے گھر کے سامنے ایک بائک اور ایک کار کو آگ لگا دی تھی۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ دو دن سے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ دہلی پولیس نے اتم نگر میں نیم فوجی دستوں اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ متوفی کے چچا ٹیک چند نے بتایا کہ ہولی کی شام لڑکی اپنی بالکونی میں پانی کا غبارہ لیے کھڑی تھی۔ غبارہ اچانک اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے کھڑی دوسری برادری کی ایک خاتون پر جا گرا۔ اس پر خاتون نے جھگڑا شروع کر دیا۔ لڑکی اور اس کے گھر والوں نے معافی مانگ لی۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ لڑکی نے جان بوجھ کر غبارہ نہیں پھینکا تھا بلکہ یہ غلطی سے گرا تھا۔ اس کے باوجود ایک مخصوص برادری کے افراد نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ ملزمان نے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور خواتین سے بدتمیزی کی۔ تصادم میں ترون کے دادا مان سنگھ بھی زخمی ہوئے۔مشتعل لوگوں نے اتم نگر پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور جمعہ کی دیر رات تک باہر سڑک پر بیٹھے رہے۔ ہنگامہ بڑھنے پر پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا اور ایک نابالغ کو حراست میں لے لیا۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر غصہ پھوٹ پڑا، لوگوں نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔












