لکھنؤ(یو این آئی) اترپردیش ملک کی تیزی سے ابھرتی ہوئی ڈیٹا اکانومی کا ایک بڑا ہب بننے کے راستے پر گامژن ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی ڈیٹا سینٹر پالیسی اورحالیہ اعلانات کے بعد ریاست میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ فروری 2026 میں ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت نے ریاست میں بڑے پیمانے پرڈیٹا سینٹر کلسٹر قائم کرنے اوراسٹیٹ ڈیٹا سینٹر اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد ڈیٹا سینٹر صنعت کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرنا اور سرمایہ کاری کے عمل کو مزید تیز کرنا ہے۔ ریاستی حکومت نے 2030 تک اترپردیش میں مجموعی طور پر 5 گیگا واٹ صلاحیت کے ساتھ 4 سے 5 بڑے ڈیٹا سینٹر کلسٹر تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس اقدام کو ملک میں ڈیٹا اسٹوریج اور کلاؤڈ سروسز کے بڑے مرکز کے طور پراتر پردیش کو قائم کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔تیزی سے بڑھتے ڈیجیٹل استعمال، کلاؤڈ سروسز کی بڑھتی طلب اور ڈیٹا لوکلائزیشن کو فروغ دینے والی پالیسیوں کے باعث ڈیٹا سینٹر صنعت کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ریاستی حکومت کے منصوبے کے مطابق تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے آٹھ ڈیٹا سینٹر پارکس قائم کیے جائیں گے جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 900 میگا واٹ ہوگی۔ ان میں سے کئی منصوبوں پر کام پہلے ہی آگے بڑھ چکا ہے۔ اب تک حکومت آٹھ منصوبوں کو لیٹر آف کمفرٹ جاری کر چکی ہے جن میں چھ ڈیٹا سینٹر پارکس اور دو آزاد ڈیٹا سینٹر یونٹس شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے ریاست میں اب تک 21,342 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 644 میگا واٹ صلاحیت کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتر پردیش میں ڈیٹا سینٹر سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری میں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔ آئی ٹی ماہر پردیپ یادو کے مطابق ڈیٹا سینٹر صنعت کی توسیع سے نہ صرف ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مضبوط ہوگا بلکہ آئی ٹی، کلاؤڈ سروسز، نیٹ ورکنگ اوردیگر ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ریاست میں اسٹارٹ اپس اور ڈیجیٹل خدمات کے لیے بھی مضبوط بنیاد تیار ہوگی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2017 سے پہلے اتر پردیش میں ایک بھی ڈیٹا سینٹر قائم نہیں تھا، لیکن یوگی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ چند برسوں میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ پالیسی کے تحت مراعات، بہتر کنیکٹیویٹی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی وجہ سے ریاست ڈیٹا سینٹر کے شعبے میں مسلسل پیش رفت کر رہی ہے، جبکہ کئی منصوبے اس وقت تعمیر یا تجویز کے مرحلے میں ہیں۔












