برسلز۔ ایم این این۔ ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی دراصل صرف مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ نہیں بلکہ چین اور مغربی طاقتوں کے درمیان عالمی اثر و رسوخ کی بڑی کشمکش کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس بحران نے یہ سوال دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ عالمی سیاست میں بالآخر شرائط کون طے کرتا ہے۔ تجزیے کے مطابق ایران اور چین کے درمیان قریبی تعلقات اس صورتحال میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اندازوں کے مطابق ایران کی بڑی مقدار میں خام تیل کی برآمدات چین کو جاتی ہیں۔ اس توانائی کے تعاون نے ایران کو عالمی پابندیوں کے باوجود معاشی سہارا فراہم کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تعلق صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ اس میں اسٹریٹجک اور تکنیکی تعاون بھی شامل ہے۔ چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کے تناظر میں ایران کو یوریشیا میں ایک اہم جغرافیائی پل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیجنگ کے علاقائی منصوبوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید برآں، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین نے ایران کے ساتھ ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون کو بھی فروغ دیا ہے، جس میں بیجنگ کے سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم “بیئی ڈو” کا استعمال بھی شامل ہے۔ اس طرح کے اقدامات ایران کو مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تجزیے میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی صرف جغرافیائی سیاست نہیں بلکہ مختلف طرزِ حکمرانی کے درمیان نظریاتی مقابلہ بھی ہے۔ ایک طرف مغربی جمہوری نظام ہے جو آزادی اور قانون کی حکمرانی پر زور دیتا ہے جبکہ دوسری جانب چین اور اس کے اتحادیوں کا مرکزی کنٹرول پر مبنی ماڈل ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کا بحران اس وسیع عالمی مقابلے کا حصہ بن چکا ہے جس میں توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی اور سیاسی اثر و رسوخ سب شامل ہیں۔ اگر چین ایران کی حمایت جاری رکھتا ہے تو یہ مغرب کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج بن سکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں مغربی ممالک کو اپنی اقتصادی اور اسٹریٹجک پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرنا ہوگا کیونکہ ایران کے مسئلے میں چین کا کردار عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے عرصے میں ایران بحران کا نتیجہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے اور یہ طے کرے گا کہ عالمی سیاست میں بالآخر کس کی شرائط غالب رہتی ہیں۔ دریں اثنا مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد عالمی طاقتوں کے مفادات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان چین کو پہنچ سکتا ہے، جو حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ توانائی، تجارت اور جغرافیائی سیاست کے میدان میں قریبی تعلقات استوار کر چکا تھا۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں میں خامنہ ای ہلاک ہو گئے، جس کے بعد ایران کی قیادت اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے گزشتہ دہائی میں ایران کو اپنے عالمی اقتصادی اور جغرافیائی منصوبوں کا اہم حصہ بنایا تھا، خاص طور پر توانائی کی فراہمی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تناظر میں۔ اگر ایران میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا ہے تو چین کی طویل مدتی سرمایہ کاری، تیل کی سپلائی اور خطے میں اس کی سفارتی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے ماضی میں ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہوئے امریکہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم موجودہ بحران میں بیجنگ نے براہ راست مداخلت سے گریز کیا ہے اور صرف سفارتی بیانات تک محدود رہا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا چین اپنے اتحادیوں کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔












