بیجنگ۔ ایم این این۔چین نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چینی حکومت کے مطابق 2026 کے لیے دفاعی اخراجات میں تقریباً 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد مجموعی دفاعی بجٹ تقریباً 1.9 ٹریلین یوان یعنی تقریباً 275 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعلان چین کی سالانہ پارلیمانی نشست نیشنل پیپلز کانگریس کے دوران کیا گیا جہاں وزیر اعظم لی چیانگ نے حکومتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، جدید ہتھیاروں کی تیاری اور مسلح افواج کی جدید کاری کے لیے کیا جا رہا ہے۔ چین گزشتہ کئی برسوں سے اپنے دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور اس وقت امریکہ کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا فوجی خرچ کرنے والا ملک ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ قومی سلامتی کے تقاضوں اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اضافی فنڈز فوجی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر صلاحیتوں اور نئے ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اپنی فوج کو مزید جدید بنانے اور دفاعی منصوبوں کو تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین نے 2026 کے لیے اپنی معاشی شرح نمو کا ہدف نسبتاً کم یعنی تقریباً 4.5 سے 5 فیصد مقرر کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت معاشی چیلنجز کے باوجود قومی سلامتی اور دفاعی طاقت کو اہم ترجیح دے رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ ایشیا اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن پر اثر ڈال سکتا ہے اور خطے کے دیگر ممالک بھی اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔دریں اثنا تائیوان کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ جزیرے کے گرد چین کی بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور کم از کم چھ چینی جنگی بحری جہاز تائیوان کے اطراف میں موجود پائے گئے ہیں۔ وزارتِ دفاع کے مطابق یہ جہاز تائیوان کے گرد سمندری علاقوں میں سرگرم تھے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔تائیوانی حکام کے مطابق صبح چھ بجے تک چینی بحریہ کے چھ جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی۔ تائیوان کی مسلح افواج نے ان سرگرمیوں کی نگرانی کی اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر ضروری دفاعی اقدامات بھی کیے۔ وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ایسے واقعات حالیہ برسوں میں بڑھتے جا رہے ہیں اور چین کی فوجی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کا سبب بن رہی ہیں۔ تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مسلسل نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان خود کو ایک خود مختار جمہوری ریاست سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے تائیوان کے گرد چینی فوجی سرگرمیوں کو اکثر خطے میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس پر تائیوان اور اس کے اتحادی ممالک تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔












