دیوبند ،سماج نیوز سروس: رمضان المبارک کے چوتھے جمعہ کی نماز شہر کی متعدد مساجد میں عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی۔ اس دوران عقیدت مندوں نے بارگاہ خداوندی میں ہاتھ اٹھا کر ملک و دنیا میں امن و سکون کی دعا کی۔ شہر کی سڑکیں اور گلیاں دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں نماز ادا کرنے آنے والوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔ دریں اثناء سکیورٹی انتظامات کے پیش نظر مرکزی مساجد اور چوراہوں پر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی۔دارالعلوم دیوبند کی مسجد رشیدیہ میں نماز جمعہ مفتی عفان منصورپوری نے پڑھائی۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ماہ مقدس کے بقیہ ایام میں دعائیں کرکے اللہ کو راضی کریں۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے چھتہ میں نماز جمعہ کے بعداپنے خطاب میںکہا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے اللہ کو راضی کرنا چاہیے تاکہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے رمضان المبارک کے آخری ایام میں خصوصی دعاؤں کی اپیل کی۔ مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ مفتی ذکوان نے پڑھائی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ہم اپنے بچوں کو انجینئر اور ڈاکٹر بنا سکتے ہیں، وہیں ہمیں انہیں دینی تعلیم بھی فراہم کرنی چاہیے۔ دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے دارالعلوم وقف کی الطیب المساجد میں نماز جمعہ کی امامت کی۔ اس کے علاوہ شہر اور دیہی علاقوں کی تمام بڑی مساجد بشمول قدیم مسجد، پرانی جامع مسجد اور مسجد قلعہ میں الوداعی نماز عقیدت کے ساتھ ادا کی گئی۔ دیہی علاقوں کے لوگوں نے نماز کے بعد عید کی خریداری کی جس سے شہر کے بازاروں میں رونق رہی۔ اس دوران سیکیورٹی کے لیے اہم مساجد اور چوراہوں پر پولیس فورس تعینات کردی گئی۔مسجد رشید میں نماز ے جمعہ کے بعد اچانک ہجوم نے نعرہ تکبیر کے نعرے لگائے۔انتظامیہ کو فوری طور پر الرٹ کیا گیا جب کچھ نوجوان مسجد رشید میں نماز سے نکل کر نعرہ تکبیر کے نعرے لگانے لگے۔ تاہم مسجد کے اندر موجود لوگوں نے ان نوجوانوں کو پرسکون کیا۔ اس کے بعد سب اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور انتظامیہ نے راحت کی سانس لی۔ تاہم سی او ابھیتیش سنگھ نے بتایا کہ سڑک پر ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔












