نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے منریگا کے زیرِ التوا بلوں کی ادائیگی کے حوالے سے اپوزیشن ارکان کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ اس بار کے ضمنی مطالبات زر کی دوسری فہرست میں اس کے لیے 30,000 کروڑ روپے کا التزام رکھا گیا ہے جس سے اس سال 31 مارچ تک کے بقایا جات کی ادائیگی ہو جائے گی۔محترمہ سیتا رمن نے لوک سبھا میں رواں مالی سال 2025-26 کے لیے ضمنی مطالبات زر کی دوسری فہرست اور اس سے متعلقہ تصرفی تجویز پر بحث کا جواب دیتے ہوئے جمعہ کو لوک سبھا میں کہا کہ کچھ ارکان نے منریگا کی ادائیگیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے، اس لیے انہیں بتانا ضروری ہے کہ جے رام جی قانون اپریل سے شروع ہوگا۔ حکومت نے منریگا کے زیرِ التوا معاملات کی ادائیگی کے لیے اس فہرست میں انتظام کر دیا ہے۔انہوں نے وکست بھارت جی رام جی بل کے بعد ریاستوں کے زیرِ التوا بلوں کے حوالے سے اپوزیشن ارکان کی تشویش کے جواب میں کہا کہ "جب ہم وی بی-جی رام-جی بل لے کر آئے تھے، اس وقت 95,000 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا تھا۔ یہ بجٹ میں شامل ہے۔ فائننس بل پاس ہونے کے بعد، یکم اپریل سے اس کے تحت 95,000 کروڑ روپے کا التزام نافذ ہو جائے گا۔”انہوں نے کہا کہ "لیکن اس کے علاوہ کئی ریاستوں کے پرانے بل زیرِ التوا ہیں۔ وہ یہی مواملہ اٹھا رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ نیا التزام نافذ ہونے کے بعد ان کے پرانے بلوں کا کیا ہوگا؟”وزیر خزانہ نے کہا کہ ان پرانے زیرِ التوا بلوں کے لیے ضمنی گرانٹ کے مطالبات کی اس فہرست میں 30,000 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس سے 31 مارچ تک کے منریگا کے بقایا جات کی ادائیگی کا معاملہ حل ہو جائے گا۔”محترمہ سیتا رمن نے اپوزیشن پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "اپوزیشن کو اس کی بالکل پرواہ نہیں ہے۔ لیکن جب وہ دوبارہ یہاں کھڑے ہوتے ہیں تو پوچھتے ہیں، منریگا کے لیے آپ نے کیا دیا؟ اس حکومت نے منریگا کے فنڈز میں کٹوتی کر دی ہے۔ جب میں جواب دے رہی ہوں، جب میں بجٹ میں کیے گئے التزامات بتا رہی ہوں، تب وہ سنتے ہی نہیں اور اس کے اوپر وہ بے شرمی سے یہاں کھڑے ہو کر میری آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں ان کے اس رویے کی سخت مذمت کرتی ہوں۔”وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے لیے پہلے اور دوسرے دونوں ضمنی مطالبات زر کو ملا کر کل رقم 4.13 لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ تاہم، اس رقم میں سے 1.71 لاکھ کروڑ تکنیکی طور پر ضمنی ہے۔ اس طرح کی گرانٹ کی تکنیکی مانگ کسی گرانٹ کے ایک حصے میں ہونے والی بچت کو اسی گرانٹ کے دوسرے حصے میں استعمال کر کے یا اس گرانٹ کے اندر حاصل ہونے والی اضافی آمدنی اور وصولی سے پورا کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے ایوان میں گرانٹ کے ان ضمنی مطالبات کو اس طرح پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے ان کے ذریعے بجٹ کے تخمینے میں پیش کردہ اخراجات کی رقم کو بڑھایا جا رہا ہے۔محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ درحقیقت مالی سال 2025-26 کے اخراجات کے ترمیم شدہ تخمینے (آر ای) بجٹ کے تخمینوں (بی ای) سے کم ہیں اور اس دوسرے ضمنی مطالبے کے بعد بھی 2025-26 کے بجٹ تخمینے سے زیادہ کوئی اضافی خرچ نہیں کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے سماج وادی پارٹی کے رام شرومنی ورما کی جانب سے بحث کے دوران اٹھائے گئے سوال پر کہا کہ ایس پی کے دورِ حکومت میں اتر پردیش میں گنا کسان ادائیگی کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہے اور 9.30 کروڑ کسانوں کو براہِ راست فائدہ کی منتقلی کے ذریعے پیسہ ملتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے دور میں کسان خودکشی کر کے مرتے تھے۔ پی ایم غریب کلیان ان یوجنا کے ذریعے 12 لاکھ کروڑ روپے کے گیہوں اور اناج سمیت امداد غریبوں تک پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "سماج وادی پارٹی ذرا سوچ لے۔ جی ڈی پی بڑھنے سے ہماری صلاحیت بڑھتی ہے اور اسی صلاحیت سے ہم کسانوں تک امداد پہنچاتے ہیں۔ آج شام کو وزیر اعظم نریندر مودی جی پی ایم کسان کی ایک اور قسط جاری کر رہے ہیں۔ اگر پی ایم کسان کی اس رقم کو بھی شامل کر لیا جائے تو مجموعی طور پر کسانوں تک 4.27 لاکھ کروڑ روپے پہنچائے گئے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے صورت اور تصویر دونوں بدل دی ہیں۔ یہ ضمنی مطالبات کسانوں کے لیے کھاد پر زیادہ سبسڈی فراہم کرتے ہیں۔ عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے اقتصادی استحکام فنڈ میں اضافہ کیا گیا ہے۔”محترمہ سیتا رمن نے موجودہ چیلنجوں کے درمیان اپوزیشن سے تعاون کی توقع کرتے ہوئے کہا کہ "ان تمام چیلنجوں کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ہمیں اچھے مشورے ملیں۔ لیکن یہاں سماج وادی پارٹی کے رکن شاعری کر رہے ہیں۔ آپ شاعری لکھتے رہیے، ہم تاریخ لکھ رہے ہیں۔ ہم تصویر بدل رہے ہیں۔












