نئی دہلی، (یواین آئی ) ہریانہ حکومت نے پیر کے روز سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ اس نے اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معاملہ اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کی سرحد پار فوجی کارروائی آپریشن سندور سے متعلق ان کی سوشل میڈیا پوسٹس سے شروع ہوا تھا۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکومت کے اس بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا کہ اب اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 3 مارچ کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ پروفیسر پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست نے اسے اپنی "فراخ دلی” قرار دیتے ہوئے معاملہ ختم کرنے کی استدعا کی۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ معاملہ بند کر دیا، لیکن پروفیسر محمود آباد کو نصیحت کی کہ وہ مستقبل میں عوامی بیانات دیتے وقت زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ حساس قومی معاملات پر گفتگو کرتے وقت ایک ماہرِ تعلیم کو سنجیدگی اور تدبر سے کام لینا چاہیے۔یہ قانونی تنازع پروفیسر محمود آباد کی ان فیس بک پوسٹس سے شروع ہوا تھا جن میں انہوں نے آپریشن سندور پر تبصرہ کیا تھا۔انہوں نے پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ کے خطرات سے بھی آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے انڈین آرمی کی کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی ہی پہچان ملک کے اندرونی مسائل، جیسے ہجوم کے تشدد کو حل کرنے میں بھی نظر آنی چاہیے۔ان پوسٹس کے بعد ہریانہ میں ان کے خلاف دو ایف آئی آرز درج کی گئیں، جن میں قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور عوامی شرپسندی جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔پروفیسر محمود آباد کو ہریانہ پولیس نے گرفتار کیا تھا، تاہم مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے انہیں عبوری ضمانت دے دی تھی اور تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم (ایس آئی ٹی ) تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ اب ہریانہ حکومت کی جانب سے مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے انکار کے بعد، یہ کیس قانونی طور پر ختم ہو گیا ہے۔












