نئی دہلی، (یواین آئی) آل انڈیا یوتھ کانگریس نے پیر کو قومی صدر اُدے بھانو چِب کی قیادت میں امریکہ-ہندوستان تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کیا۔ ملک بھر سے آئے یوتھ کانگریس کارکنان جنتر منتر پر جمع ہوئے اور وہاں سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ احتجاج کے دوران کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن رندیپ سنگھ سرجے والا، کانگریس لیڈر سچن پائلٹ، پنجاب کانگریس صدر و لوک سبھا رکن امریندر سنگھ، کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی اور راجستھان کے ایم ایل اے منیش یادو نے کارکنان کو خطاب کیا۔ مسٹر سرجے والا نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس اس تجارتی معاہدے کی مسلسل مخالفت کر رہی ہے کیونکہ اس سے ملک کے کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قیادت اور کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی رہنمائی میں پارٹی نے اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ جب تک یہ تجارتی معاہدہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، تب تک کسانوں کے حقوق محفوظ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کسانوں کی روزی روٹی پر کسی بھی طرح کا حملہ برداشت نہیں کرے گی اور اس کے خلاف ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ اس موقع پر مسٹر چِب نے کہا کہ یہ تحریک کسانوں اور ملک کی زراعت کو مبینہ نقصان پہنچانے والے امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے بین الاقوامی دباؤ میں آ کر ملک کے وقار سے سمجھوتہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ معاہدہ مجبوری میں ہوا ہے یا خوف کی وجہ سے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور اب تجارتی معاہدے سے ملک کو نقصان ہوا ہے۔ یوتھ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسان مخالف اس معاہدے کو فوراً منسوخ کرے، ورنہ پارٹی راہل گاندھی کی قیادت میں سڑک سے پارلیمنٹ تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ مارچ کے دوران دہلی پولیس نے پارلیمنٹ کی طرف بڑھ رہے کارکنان کو رکاوٹیں لگا کر روک دیا اور کئی کارکنان کو حراست میں بھی لیا۔












