کانپور،سماج نیوز سروس : ماہِ مبارک رمضان کی ستائیسویں شب (شبِ قدر) کے پرنور موقع پر جامع مسجد اشرف آباد میں تکمیلِ قرآن کی عظیم الشان اور پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے نمازِ تراویح میں خود قرآن کریم مکمل سنانے کی سعادت حاصل کی اور بعد ازاں ایک جامع، فکر انگیز اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کی عظمت اور اس کے معجزہ ہونے پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل جبرائیل امینؑ جس کتاب کو لے کر نازل ہوئے تھے، وہ آج بھی بغیر کسی زیر، زبر اور نقطے کے فرق کے اپنے اصل روپ میں محفوظ ہے۔ قرآن نے اس وقت جو چیلنج کیا تھا کہ اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھاؤ، وہ آج کے اس جدید اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ترقی یافتہ دور میں بھی برقرار ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اربوں روپے خرچ کر کے نفرت کا بازار گرم کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا اور بالخصوص ہندوستان میں سب سے زیادہ قبول کیا جانے والا مذہب اسلام ہی ہے، اور اسلام قبول کرنے والوں کی سب سے بڑی وجہ قرآن کریم کی کشش اور اس کی حقانیت ہے۔ مولانا قاسمی نے تراویح میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر اور ترتیل کے ساتھ پڑھنے اور سننے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کو تیز رفتاری سے پڑھنا جس میں الفاظ کی کٹوتی ہو، قرآن کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تراویح میں تلاوت کا مقصد اللہ کی رضا اور کلام پاک کا حق ادا کرنا ہونا چاہئے۔ اپنے خطاب میں مولانا عبداللہ قاسمی نے مساجد کے ائمہ، حفاظ کرام اور مؤذنین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امت مسلمہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ انہوں نے کہا کہ ان خادمانِ دین نے دنیاوی کیریئر اور خواہشات کو ترک کر کے اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کر دی ہیں۔ لہٰذا یہ پوری قوم کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ ان کا اکرام کرے، ان کی مالی و معاشرتی ضروریات کا بھرپور خیال رکھے اور انہیں سماج میں وہ عزت و مقام دے جس کے وہ حقدار ہیں۔ قومیں تبھی ترقی کرتی ہیں جب ان کے مذہبی پیشواؤں کا احترام کیا جاتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر مولانا نے رخصت ہوتے ہوئے ماہِ رمضان پر افسوس کا اظہار کیا اور شبِ قدر کی فضیلت کے پیشِ نظر رو رو کر امت مسلمہ کی مغفرت، درگزر اور بخشش کی رقت انگیز دعائیں کرائیں۔ عید الفطر کی نماز صبح 8 بجے ادا کیے جانے کا اعلان بھی کیا گیا۔












