دیوبند ،سماج نیوز سروس: اللہ تعالی نے رمضان المبارک کے روزوں کی تکمیل اور ان میں ہونے والی کوتاہیوں کے ازالے اور غریبوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کے لیے صدقہ فطر واجب کیا صدقہ فطر کی حکمت فقیروں محتاجوں غریبوں پریشان حال لوگوں کی خبر گیری اور ان کی داد رسی ہے اور انہیں عید جیسے مسرت کے دن دست سوال دراز کرنے سے بچانا ہے تاکہ یہ لوگ بھی امیروں مالداروں کے ساتھ خوشی خوشی عید منائیں اور یہ عید ہر انگن میں خوشی کے پھول کھلائے اور صدقہ دینے والا احسان و کرم غم خواری مواسات کی اعلی صفت سے متصف ہو ،صدقہ فطر سے روزہ دار کے روزوں میں رہ جانے والی کمیاں کوتاہیاں لغزشیں دور ہو جاتی ہیں۔ان خیالات کا اظہارآن فتوی موبائل سروس کے چیرمین مفتی محمد ارشد فاروقی نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ صدقہ فطر روزوں کی تکمیل ہو جانے کے موقع پر اظہار مسرت کا ذریعہ ہے نعمت کا نذرانہ ہے حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر واجب کیا تاکہ روزہ دار کا روزہ لغو و بیہودہ چیزوں سے پاک ہو سکے اور مسکینوں کی خوراک کا سامان ہو سکے جس نے نماز سے پہلے ادا کیا تو وہ قبول ہوگا اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو اس کا شمار عام صدقے میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ صدقہ فطر بھی تزکیہ کا حصہ ہے اسی لیے عید الفطر کی نماز کچھ تاخیر سے ادا کرنی چاہیے تاکہ لوگ صدقہ فطر ادا کر سکیں صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ادا کیا جائے الا یہ کہ کوئی عذر پیش ا جائے تو نماز کے بعد فورا ادا کر دے اور بہتر یہ ہے کہ عید سے کئی دن پہلے ہی صدقہ فطر ادا کر دے تاکہ ضرورت مند تنکہ تنکہ جمع کر کے عید کی خوشی میں شریک ہو سکے ان کے بچوں کے لبوں پر مسکراہٹ دینے والوں کے دلوں کو گدگدا سکے۔مفتی محمد ارشد فاروقی نے کہا کہ صدقہ فطر ہر صاحب نصاب پر واجب ہے البتہ مال پر سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ اپنی طرف سے چھوٹے بچوں کی طرف سے اور جن لوگوں کی کفالت کرتا ہے ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے۔ صدقہ فطر کی اہمیت کے پیش نظر بعض فقہا کا مسلک یہ ہے کہ جس شخص کے پاس عید کے شب و روز کے صرفے سے بھی کچھ زائد ہو تو وہ صدقہ فطر ادا کرے یہ مسلک شان زہد و توکل سے میل کھاتا ہے۔ صدقہ فطر کی مقدار حنفیہ کے نزدیک پونے دو کلو گندم ہے دیگر اماموں کے نزدیک ایک صاع ہے احناف کے یہاں فتوی یہ ہے کہ اگر گندم کی قیمت ادا کر دے تو صدقہ فطر ادا ہو جائے گا اور یہ ضرورت مندوں کی مصلحت کے زیادہ قرین قیاس ہے کہ نقد روپے سے وہ اپنی ہر ضرورت کی تکمیل کر سکتا ہے اس کے باوجود بعض فقہاء کا اصرار ہے کہ قیمت ادا نہ کرے بلکہ جنس دے دی جائے گندم چاول جو کھجور جس علاقے میں جو غذا رائج ہو براہ راست دی جائے۔ دینی مدارس میں پڑھنے والے نادار طلبہ بھی اس کے مستحق ہیں البتہ مدارس کے ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ صدقہ فطر کی مد میں جو رقم یا جنس ملے اسے عید کے دن کی ضروریات میں طلبہ پر خرچ کر دیں تاکہ صدقہ فطر کا مقصد پورا ہو سکے ۔صدقہ فطر کی مقدار ایک ہی مستحق فرد کو بھی دے سکتے ہیں اور چند میں تقسیم بھی کر سکتے ہیں اور ایک فرد کو کئی صدقہ فطر بھی دے سکتے ہیں۔












