تہران:ایران میں جاری جنگ کے 25 ویں روز منگل کو کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ٹی وی ‘چینل 12’ نے مغربی ایران میں اسرائیلی فضائی حملوں کی نئی لہر کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے رات گئے تہران کے قلب میں کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب جنوبی اسرائیل میں ایرانی میزائلوں کے ٹکڑے گرنے سے تل ابیب میں دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق تل ابیب میں 7 مقامات پر ملبہ گرا، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے اور 3 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔اس سے قبل تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں سائرن بجنے کے بعد زوردار دھماکے سنے گئے۔ اسرائیلی فوج نے ‘دیمونا’ اور ‘بئر السبع’ کے گردونواح میں بھی نئے میزائل حملوں اور ملبہ گرنے کی اطلاع دی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان کے میزائلوں نے اسرائیل کے کئی دفاعی نظاموں کو توڑ دیا ہے۔یہ حملے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہوئے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے کی صورت میں بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ جنوبی مغربی ایران میں خرم شہر پاور پلانٹ کی گیس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے تہران میں پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز، بیلسٹک میزائلوں کے مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات سمیت شمال اور وسطی ایران میں 50 سے زائد اہداف پر حملے کیے ہیں۔امریکی حکام نے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ اخبار کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہوتے ہی جمعہ تک ہزاروں امریکی میرینز مشرق وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔ امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ کے مطابق واشنگٹن ایران میں فوجی آپریشنز کی معاونت کے لیے چھاتا بردار فوجیوں کے جنگی بریگیڈ کی تعیناتی پر غور کر رہا ہے، جس کا ایک مقصد ایران کے جزیرہ خارگ پر کنٹرول حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری اس مشترکہ مہم میں تہران سمیت کئی شہر روزانہ کی بنیاد پر بم باری کا شکار ہیں۔ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جواباً ایران اسرائیل اور خلیج میں امریکی مفادات پر ڈرون اور میزائل حملے کر رہا ہے۔سیاسی محاذ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ "بنیادی نکات” پر اتفاق کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے صرف دوست ممالک کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔












