بیروت، (یواین آئی) لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔وزراء کی کونسل کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں نواف سلام نے کہا کہ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی جانب سے لیطانی کے جنوبی علاقوں پر قبضے کی دھمکیاں اور وزیر خزانہ سموٹریچ کے ان علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے مطالبات کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے دریائے لیطانی پر واقع متعدد پلوں کو تباہ کر دیا ہے تاکہ جنوبی علاقوں کو باقی لبنان سے کاٹا جا سکے، جبکہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کے لیے بار بار انخلا کے انتباہات بھی جاری کیے ہیں، جن کی گہرائی چالیس کلومیٹر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔یہ پیش رفت حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل میں مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعووں کے بعد سامنے آئی، جن میں پوریا بیس، دادو بیس اور شامیر بستی کے قریب تنصیبات شامل ہیں، جبکہ سرحدی اسرائیلی بستیوں کریات شمونہ، میتولا اور نہاریا پر مارٹر گولے داغنے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔نواف سلام نے کہا کہ جنوبی لبنان کے شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی، زمینوں پر قبضہ اور گھروں کی مسماری اس بات کا اشارہ ہے کہ متاثرہ افراد کی جلد واپسی ممکن نہیں رہی۔انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی نام سے "سکیورٹی بیلٹ” یا بفر زون” قائم کرنے کی کوشش ایک خطرناک اقدام ہے جو لبنان کی خودمختاری کے خلاف ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔لبنانی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ حکومت اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی اور فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکایت درج کرائی جا رہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ سے براہ راست رابطہ بھی کیا گیا ہےدوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائے ادرعی نے سوشل میڈیا پر دریائے زہرانی کے جنوب میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر شمال کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی، یہ کہتے ہوئے کہ فوج اس علاقے میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ حزب اللہ کے ٹھکانوں یا جنگی وسائل کے قریب موجود افراد اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں اور جنوب کی جانب نقل و حرکت شہریوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے 9 مارچ کو جنوبی لبنان میں ایک محدود زمینی آپریشن شروع کیا تھا اور اس نے سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر تک پھیلے علاقے، بشمول دریائے لیطانی تک، ایک سکیورٹی زون قائم کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔












