واشنگٹن/صنعاء، (یو این آئی) یمن کے حوثی باغیوں نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ موجودہ تنازع کے آغاز کے بعد سے اسرائیل پر حوثیوں کا یہ پہلا براہ راست حملہ ہے، جو ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ‘المسیرہ ٹی وی کے ذریعے بتایا کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ مقررہ اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے اور مزاحمت کے تمام محاذوں پر جارحیت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے کم از کم ایک میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔ رات گئے بیئر شیبہ سمیت کئی علاقوں اور اسرائیل کے اہم ایٹمی تحقیقی مرکز کے قریب خطرے کے سائرن بجنے لگے، جبکہ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے بھی حملے جاری رہے۔ حوثی جو 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قابض ہیں، اب تک اس بڑے تنازع سے بڑی حد تک الگ رہے تھے، تاہم ان کی اس نئی مداخلت سے بحیرہ احمر کے قریب ایک نیا محاذ کھلنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بحیرہ احمر کے راستے سالانہ تقریباً ایک ٹریلین امریکی ڈالر کی عالمی تجارت ہوتی ہے اور حوثی حملوں کے باعث پہلے ہی کئی تجارتی جہازوں کو افریقہ کے ‘کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل راستے پر منتقل ہونا پڑا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ مزید 17,000 فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں سعودی عرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی بھی اطلاع ہے جس میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یمن سے داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل یمن سے داغا گیا تھا اور اس کی نشاندہی دفاعی نظام کے ذریعے کی گئی۔دوسری جانب ایران سے منسلک حوثی باغیوں نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اگر ایران اور "محورِ مزاحمت” کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو وہ بھی ردعمل دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے اس کی نوعیت واضح نہیں کی تھی۔میزائل حملہ حوثیوں کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حوثی اس جنگ میں عملی طور پر شامل ہو جاتے ہیں تو اس سے تصادم کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، کیونکہ یمن سے میزائل حملے کرنے اور بحیرہ احمر و جزیرہ نما عرب کے اطراف جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔












