واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا اور جاری ’سنجیدہ‘ مذاکرات کے ’فوری‘ نتائج برآمد نہ ہوئے تو ایران کے لیے انتہائی سٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرہ خارک کو ’مٹا‘ دیا جائے گا۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ "ریاستہائے متحدہ امریکہ ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئے اور زیادہ عقل مند نظام کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے۔ اس حوالے سے زبردست پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہو سکا جس کا امکان موجود ہے اور اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا، تو ہم ایران میں اپنے اس پُر لطف قیام کا اختتام تمام پاور پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور جزیرہ خارک (اور شاید تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس!) کو دھماکے سے اڑا کر اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر کریں گے”۔دوسری جانب ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران میں آثارِ قدیمہ کے درجنوں مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔حکومتی بیان کے مطابق ملک بھر میں آثارِ قدیمہ کی 131 عمارتوں میں نقصانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔صوبہ تہران سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 61 مقامات پر نقصانات درج ہوئے، جس کے بعد اصفہان شہر کا نمبر آتا ہے جو ایران کا ثقافتی مرکز سمجھا جاتا ہے اور وہاں 23 ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچا۔وزارت ثقافتی ورثہ، سیاحت اور دستکاری نے 10 صوبوں میں سیاحتی مقامات اور تنصیبات بشمول ہسپتالوں، ہوٹلوں اور تفریحی مراکز کو پہنچنے والے وسیع نقصانات کی بھی اطلاع دی ہے۔ ایرانی حکومت نے جنگ چھڑنے کے تھوڑی دیر بعد ہی ثقافتی اداروں کے تحفظ کی اپیل کی تھی۔دارالحکومت تہران میں واقع گلستان پیلس جو اپنے خوبصورت اندرونی ڈیزائن کے لیے مشہور ہے ان متعدد مقامات میں شامل ہے جنہیں نقصان پہنچا ہے۔یہ محل جو شہر کے وسط میں واقع ہے، سنہ 2013ء میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اصفہان میں بھی شہر کے وسط میں واقع مشہور چہل ستون محل کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران میں طویل عرصے سے تلاش کیے گئے کئی اہداف کو ’’ مکمل طور پر تباہ ‘‘ کردیا ہے۔ تاہم، انہوں نے نہ تو اسکی وضاحت کی اور نہ ہی اہداف کی نشاندہی کی۔ایران میں بڑا دن۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ طویل عرصے سے تلاش کیے جانے والے اہداف کو ہماری عظیم فوج نے تباہ کر دیا ہے، جو دنیا کی بہترین اور مہلک فوج ہے۔ایک متعلقہ پیشرفت میں، لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (UNIFIL) نے پیر کے روز اعلان کیا کہ 29-30 مارچ کی درمیانی شب ادچیت القصیر کے قریب UNIFIL پوزیشن میں ایک پروجیکٹائل پھٹنے سے اقوام متحدہ کا ایک امن فوجی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔UNIFIL نے اقوام متحدہ کے امن فوجی کی قومیت کا ذکر نہیں کیااور نہ ہی بتایا گیا کہ یہ میزائل کس نے فائر کیا تھا۔UNIFIL نے تمام لڑنے والے گروہں سے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنے اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کو ہر وقت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، بشمول ایسے اقدامات سے گریز کرنا جس سے امن فوجیوں کو خطرہ لاحق ہو۔ اس نے کہا کہ امن فوجیوں پر جان بوجھ کر حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔UNIFIL نے کہا کہ اس تنازعہ میں دونوں طرف سے بہت زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ’’کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ تشدد ختم ہونا چاہیے۔












