لندن، (یواین آئی ) برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اسی ہفتے 35 ممالک کی ایک اہم میٹنگ بلا رہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ برطانیہ کسی بھی صورت ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے اور اس میں شامل ہونا ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہے، چاہے کتنا ہی دباؤ یا شور شرابہ کیوں نہ ہو۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ برطانیہ اسی ہفتے 35 ممالک کی ایک اہم میٹنگ بلا رہا ہے جس کی میزبانی برطانوی وزیر خارجہ کریں گے۔ اس میٹنگ کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا اور جنگ کا جلد خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ اس اجلاس کے بعد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے عسکری منصوبہ بندی پر مبنی ایک اور میٹنگ بھی بلائی جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے برعکس برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ نیٹو نے دہائیوں تک ہماری حفاظت کی ہے، ہم نیٹو کا حصہ ہیں اور رہیں گے۔انہوں نے شاہ چارلس کے دورہ امریکہ کے حوالے سے بتایا کہ یہ دورہ عرصے سے طے شدہ تھا جو امریکہ کی 250 سالہ تقاریب کے سلسلے میں ہے اور اپنے شیڈول کے مطابق ہوگا۔ جنگ کے اثرات سے برطانوی عوام کو بچانے کے لیے کیئر اسٹارمر نے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے ہر گھر کے بجلی اور گیس کے بلوں میں 100 پاؤنڈ رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ فیول ڈیوٹی میں دی جانے والی رعایت کی مدت بھی ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگرچہ جنگ کے اثرات برطانیہ کے مستقبل پر اثرانداز ہوں گے، لیکن ہم اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔












