تہران، (یواین آئی ) ایران کی پاسدارانِ انقلاب ( آئی آر جی سی ) نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے "آپریشن وعدہ صادق 4کے تحت کی جانے والی ان کارروائیوں میں جدید ترین بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جس سے پورے خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہےپاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، یہ کارروائی حزب اللہ کے شہدا کے نام کی گئی ہے جو کہ اپنی نوعیت کی 88 ویں لہر تھی۔ اس آپریشن میں ایران نے اپنے سب سے جدید اور بھاری میزائل سسٹمز کا استعمال کیا ہے، جن میں شامل ہیں:ایرانی حکام کے مطابق، ان میزائلوں نے اسرائیل کے اندرونی حصوں میں اہم عسکری اور تزویراتی مقامات کو نشانہ بنایا۔ جن علاقوں میں سائرن گونجتے رہے اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں جدید اور بھاری میزائل سسٹمز استعمال کیے گئے، جن میں عماد، خرم شہر-4 اور قدر جیسے میزائل شامل ہیں۔ایران نے صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ بیان کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے مختلف علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، جن میں بیرشیبا، الجلیل، نقب اور تل نوف ایئر بیس جیسے مقامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بنی براک میں ایک مبینہ اہم اجلاس کے مقام کو بھی نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا۔ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد دشمن کی عسکری صلاحیت کو اپاہج کرنا اور خطے میں دباؤ بڑھانا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، یہ کارروائیاں ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی کی علامت ہیں، جہاں مزاحمتی محاذ کے ذریعے جنگ کے دائرہ کار کو مرحلہ وار پھیلایا جا رہا ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ ان کا طویل المدتی ہدف خطے سے امریکی مداخلت کا خاتمہ اور اسرائیلی فوجی برتری کو ختم کرنا ہے تاکہ تہران اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کر سکے۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی قوتیں اس تنازعے کے وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشے کا اظہار کر رہی ہیں۔












