تل ابیب، (یو این آئی) ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے حوالے سے اسرائیلی عوام کی حمایت میں "مسلسل کمی” آئی ہے۔ ایک نئے سروے میں یہ انکشاف ہوا ہے۔تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز(آئی این ایس ایس) کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کیے گئے سروے کے مطابق ایرانی حکومت کو گرانے تک مہم جاری رکھنے کے لیے عوامی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ فوجی مہم کے ابتدائی دنوں میں جہاں 69 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ حکومت کو بھاری نقصان ہوگا، وہیں اب صرف 43.5 فیصد ہی ایسا سمجھتے ہیں۔سروے میں کہا گیا ہے کہ "ایران میں مہم کے نتائج اور اسے ختم کرنے کے مقصد کے حوالے سے عوامی نقطۂ نظر اب بدل رہا ہے۔ عوام اب ایران کے جوہری منصوبے، میزائل ذخیرے اور آیت اللہ حکومت کو ہونے والے ممکنہ نقصان کے اندازے میں زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔” اسی طرح ایران کے جوہری منصوبے کو نقصان پہنچنے کی امید بھی ابتدائی 62.5 فیصد سے کم ہو کر اب 48 فیصد رہ گئی ہے۔ بیلسٹک میزائل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندازہ لگانے والوں کی تعداد بھی 73 فیصد سے کم ہو کر 58.5 فیصد ہو گئی ہے۔حکومت کو گرانے تک جنگ جاری رکھنے کی حمایت بھی ابتدائی دنوں کے 63 فیصد سے کم ہو کر اب 45.5 فیصد رہ گئی ہے۔ شمالی محاذ پر عوام اس سوال پر منقسم ہیں کہ آیا حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) پر عوام کا اعتماد 77 فیصد کے ساتھ بلند سطح پر برقرار ہے، جبکہ حکومت پر اعتماد صرف 30 فیصد ہے، جس میں گہری سیاسی تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 63 فیصد یہودی آبادی کا ماننا ہے کہ فوج کے سربراہ کی یہ وارننگ درست تھی کہ مزید فوجیوں کی بھرتی کے بغیر مختلف محاذوں پر آئی ڈی ایف کو دیے گئے مشن فوج کو "اندر سے کمزور” کر سکتے ہیں۔












