قاہرہ، (یواین آئی) اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خطے کو مزید کشیدگی کی طرف لے جانے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔سابق ڈائریکٹر جنرل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے اور خطہ وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
محمد البرادعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں خلیجی حکومتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تمام تر سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاکہ خطے کو "آگ کے گولے” میں تبدیل ہونے سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دی گئی حالیہ دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔البرادعی نے ایک اور پیغام میں اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ "کیا اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا؟”، جبکہ انہوں نے چین اور روس کی وزارتِ خارجہ کو بھی مخاطب کیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کو ایک بار پھر خبردار کیا کہ وہ یا تو معاہدہ کرے یا آبنائے ہرمز کو کھول دے، جسے ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ ایران کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے قریب ہے اور اب صرف 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، بصورت دیگر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ محمد البرادعی 1997 سے 2009 تک آئی اے ای اے کے سربراہ رہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا۔ انہیں اور ان کے ادارے کو 2005 میں جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے فروغ پر نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔












