تہران، (یواین آئی) پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرخ لکیر عبور کی گئی تو ردعمل صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا۔پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تحمل کا وقت ختم ہو چکا ہے اور کسی بھی ممکنہ اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔بیان کے مطابق اگر امریکہ نے مزید پیش قدمی کی تو اس کے اور اس کے شراکت داروں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی طویل عرصے تک خطے کے تیل اور گیس سے محروم رہ سکتے ہیں۔ایرانی فورسز کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک ہمسائیگی کے پیش نظر تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم امریکی اقدامات اس صبر کو ختم کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی قیادت کو اندازہ نہیں کہ اس کے کتنے اہم اثاثے ایرانی دائرہ کار میں ہیں۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی عوامی عزم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد ایرانی شہری ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ خود بھی ایران کے لیے قربانی دینے والوں میں شامل ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کو تیار ہیں، جبکہ ایرانی عوام بھی متحد ہو کر اس مقصد کے لیے کھڑے ہیں۔صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ اب تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد ایرانی شہری ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے کی تیاری ظاہر کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا، "میں نے بھی ایران کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے”، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم متحد ہو کر ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گی۔دوسری جانب جاری جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے ایران میں متعدد اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 2,076 افراد جاں بحق جبکہ 26,500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے اور خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے












