اسلام آباد، (یواین آئی) پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری بیان میں پاکستان کی کوششوں کو "مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیش رفت فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان دو مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کی تجویز دی گئی ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا اور مستقل جنگ کے خاتمے کی ضمانتیں چاہتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 45 روزہ عارضی جنگ بندی امریکی فریق کو عسکری تیاری کا موقع دے سکتی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ایرانی مؤقف کے مطابق جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام میں نئی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے، جس میں سلطنت عمان کے ساتھ مشترکہ انتظام کا امکان بھی شامل ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے "نور نیوز” کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام ممالک سے "سکیورٹی فیس” وصول کی جا سکتی ہے اور کسی ملک کو اس سے استثنیٰ نہیں ہوگا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے منگل کی شام تک مہلت دی ہے، بصورت دیگر توانائی کی تنصیبات اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے، تاہم انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ جلد کسی معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز زیر غور ہے، لیکن اس کی حتمی منظوری ابھی نہیں دی گئی۔ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ مسلح افواج جنگ جاری رکھیں گی جب تک سیاسی قیادت اسے ضروری سمجھے۔ادھر ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے پاکستان کی تجویز پر مشتمل 10 نکات کا جواب دے دیا ہے، جن میں جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کے لیے محفوظ گزرگاہ کا نظام، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیر نو شامل ہیں۔ دریں اثنا مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید علالت کے باعث حکومتی امور انجام دینے سے قاصر ہیں۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ معلومات ایک سفارتی انٹیلی جنس میمورنڈم سے حاصل کی گئی ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت بے ہوشی کی حالت میں قم میں سخت سکیورٹی اور رازداری کے درمیان زیرِ علاج ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد قیادت سنبھالی تھی، تاہم موجودہ طبی حالت نے ان کی عملی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ صورتحال 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد پیدا ہوئی، جس میں ان کے والد سمیت خاندان کے کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای عوامی منظر سے غائب ہیں اور ان کا کوئی براہ راست خطاب سامنے نہیں آیا، جبکہ میڈیا پر ان کی موجودگی محدود اور مشتبہ نوعیت کی ویڈیوز تک رہی ہے۔سفارتی حلقوں کے مطابق ان کی صحت سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے ایران میں اصل اقتدار کے ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب عملی طور پر حکومتی امور چلا رہی ہے۔اخبار کے مطابق ایرانی حکام اس معاملے پر سخت رازداری اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ سیاسی بحران کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے، جبکہ قم میں علی خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔دریں اثنا مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں جائیدادوں کی قیمتوں اور فروخت میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے حملوں کے تناظر میں دبئی میں رہائشی اور تجارتی املاک کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کی معاشی صورتحال بھی متاثر ہو رہی ہے۔دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال شہر میں 917 ارب درہم مالیت کی 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد جائیدادوں کا کاروبار ہوا تھا، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد اس رفتار میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔کاروباری ویب سائٹ اے جی بی آئی کے مطابق مارچ میں جائیدادوں کی فروخت کے حجم میں گزشتہ مہینے کے مقابلے تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی ایک بڑی وجہ پہلے سے طے شدہ معاہدوں کی منسوخی اور تعطل ہے۔اسی دوران نئے معاہدوں میں خریدار قیمتوں میں 30 فیصد تک کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دبئی کا تجارتی رئیل اسٹیٹ سیکٹر بھی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ ہوٹلوں میں قیام کی شرح معمول کے 90 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رہ گئی ہے۔حالات کے پیش نظر ہوٹل انڈسٹری نے صارفین کو راغب کرنے کے لیے بھاری رعایتیں دینا شروع کر دی ہیں، اور پام جمیرہ جیسے علاقوں میں لگژری پراپرٹیز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔












