امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد امریکہ نے "مکمل اور جامع فتح” حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی یورینیم کے معاملے سے بھرپور طریقے سے نمٹا جائے گا، ورنہ وہ اس معاہدے پر اتفاق نہ کرتے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی روشنی میں ایران پر بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس صورت میں جنگ بندی کے لیے تیار ہیں اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دے۔امریکی صدر کے مطابق یہ دوطرفہ جنگ بندی ہ وگی جس سے مستقل امن معاہدے کی تکمیل میں مدد ملے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سابقہ تمام اختلافی نکات پر تقریباً اتفاق ہو چکا ہے اور ایران کی جانب سے موصول ہونے والی 10 نکاتی تجویز مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ چین نے ایران کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا ہےقبل ازیں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کو دی گئی مہلت میں دو ہفتوں کی توسیع کی مخلصانہ درخواست کی تھی تاکہ سفارت کاری کو موقع مل سکے۔ انہوں نے ایران سے بھی خیر سگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کی اپیل کی تھی۔ ایرانی حکام نے پاکستانی تجویز پر مثبت غور کرنے کی تصدیق کی تھی۔وائٹ ہاؤس اور دیگر ذرائع کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اگرچہ پہلے ڈیڈ لائن سے قبل معاہدے کے امکانات کم دکھائی دے رہے تھے، لیکن پاکستانی ثالثوں کے دباؤ اور سنجیدہ بات چیت نے صورتحال کو تبدیل کر دیا۔ اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی وفد کے درمیان براہ راست ملاقات کی تجویز پر بھی دوبارہ بحث شروع ہوئی ہے۔یاد رہے کہ اس معاہدے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولا یا معاہدے پر راضی نہ ہوا تو اسے عبرت ناک فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم اب صورت حال پُر امن حل کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔












