علی گڑھ،سماج نیوز سروس :گلوبلائزیشن نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے،اس کے باوجود مذہبی عدم برداشت، انتہا پسندی اور تہذیبی تصادم جیسے سنگین خطرات بھی دنیا کو درپیش ہیں۔ ان حالات میں تکثیری معاشروں خصوصاً ہندوستان جیسے کثیر المذاہب ملک میں پرامن بقائے باہمی محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ ملکی استحکام اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔اور اس مشن کا عَلم تعلیم یافتہ طبقے کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔اسی احساس کے پیش نظر، شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ،حیدرآباد کے اشتراک سے دو روزہ قومی سیمینار ’بقائے باہم اور مذاہب عالم‘کے عنوان پر منعقد کیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد مذاہب عالم میں ان مشترکہ مثبت اقدار کو فروغ دینا ہے جو انسانیت نوازی اور احترام باہمی میں معاون ثابت ہوسکیں۔ سیمینار کا آغاز یونیورسٹی بوائز پولی ٹیکنک آڈیٹوریم میں ہوا۔ افتتاحی نشست کی صدارت پروفیسر وحید اللہ ملتانی کی۔انہوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اسلام مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ اپنی عبادت کوللہیت کے ساتھ انسانوں کی خدمت اور ان کی راحت کا ذریعہ بنائیں۔اپنے اخلاق بلند کریں اور دوسروں کو خود پر ترجیح دیں، اس میں کسی فرقے اور مذہب کی تفریق نہ کریں۔ کنوینر سیمینار،سابق ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ شعبہئ سنی دینیات میں اسلام، ہندومت، یہودیت، عیسائیت اور بدھ مت کا کورس پڑھایا جاتا ہے۔بقائے باہم پر سیمینار کرنا ہماری نصابی ضرورت بھی ہے اور ملک کے تکثیری سماج کو بہتر بنانے کی ایک مخلصانہ جد و جہد بھی ہے۔مذاہب میں امن و آشتی کی جو تعلیم دی گئی ہے وہ کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام انسانوں کو اس کا فیض پہنچے اوراحترام انسانیت کا درس ہر طبقے کو ملے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت جنگ و جدال کا نہیں بلکہ بقائے باہم کا ہے،آپسی اتحاد اور مذہبی مکالمے کا ہے،مذاہب کے نمائندوں کو چاہئے کہ وہ کثرت سے ایسے پروگرام کریں جو ملک سے نفرت کی فضا کو دور کرے اور پرامن بقائے باہم کو یقینی بنائے۔ اس موقع پر ریورنڈ فادر کرسٹی ابراہم، ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ، مہمان اعزازی کے طور پر شریک رہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہب کی تعلیم لوگوں کو جوڑنے کی ہے،بقائے باہم کی ہے،محبت کی ہے،انصاف کی ہے اور رحمت کی ہے۔ان اصولوں کی بنیاد پر ہمیں انسانی معاشرے کو از سر نو تشکیل دیناچاہئے۔ ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر محمد حبیب اللہ قاسمی نے تمہیدی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمینار اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت اہم،حساس اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔مختلف مذاہب کی تعلیمات میں موجود بقائے باہم،رواداری اور انسانی ہم آہنگی کے عناصر کو اہل قلم نے علم و تحقیق کے ساتھ واضح کیا ہے۔یہ سیمینار عالمی سطح پرانسانیت کی بقا،معاشرتی استحکام اور پر امن زندگی کا انحصار،باہمی احترام کا پیغام دے گا۔ صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر محمد راشد نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمینار ملک کے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے لئے بقائے باہم کا درس ہوگا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم اشرف نے انجام دئے، اور ڈاکٹرریحان اخترنے کلمات تشکر پیش کئے۔ اس موقع پر فیکلٹی آف تھیالوجی کے ترجمان مجلہ ’دراساتِ دینیہ‘ کے تازہ شمارے کے ساتھ ساتھ رواں سیمینار کے مجموعہ مقالات کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ یہ مجموعہ کم و بیش۰۰۶/ صفحات پر مشتمل ہے۔ مقالات کا ایک حصہ شعبہ سنی دینیات کی تھیالوجکل سوسائٹی کے ترجمان مجلہ ”الدین“ میں خصوصی شمارہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو زیر طبع ہے۔ سیمینار میں پروفیسر نسیم احمد غازی،پروفیسر وبھا شرما،پروفیسر لطیف الرحمن کاظمی،ڈاکٹر اشہد جمال ندوی،ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی،مولانا ثناء الہدیٰ کے علاوہ ڈاکٹر شائستہ پروین،ڈاکٹر محمد ناصر،ڈاکٹر محمد عاصم،ڈاکٹر حبیب الرحمن اور کثیر تعداد میں یونیورسٹی و بیرون یونیورسٹی سے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز موجود رہے۔












