ممبئی ،پریس ریلیز،ہماراسماج:دہشت گردی جیسے سنگین الزام کے تحت گذشتہ چودہ سالوں سے جیل میں مقیددو مسلم نوجوانوں کو آج اس وقت راحت ملی جب ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت نے ان کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت کو منظور کرلیا، مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر اور طویل قید کو بنیا د بناکر جمعیۃعلماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے وکلاء عبدالوہاب خان اور شریف شیخ نے عدالت میں بحث کی تھی۔ملزمین ہارون عبدالرشید نائیک اور نقی احمد کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر ایک ماہ قبل ہی فریقین کے دکلاء کی بحث مکمل ہوگئی تھی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج سنایا گیا۔خصوصی سیشن عدالت کے جج ایس آر نوندر نے ملزمین کو گذشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہا ملزم ندیم اختر کے فیصلے کی بنیاد پر ضمانت منظور کی، عدالت نے یکسانیت اور مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کو بنیاد بناکر ملزمین کی ضمانت منظور کی جو گذشتہ 14؍ سالوں سے زائد عرصے سے جیل کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے۔نچلی عدالت میں مقدمہ کی سماعت ہفتہ میں صرف تین دن ہوتی رہی اور ابتک استغاثہ 200؍سرکاری گواہان کو ہی عدالت میں پیش کرسکا ہے جبکہ ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لیئے پانچ سو سے زائد سرکاری گواہوں کو نامز دکیا گیا ہے۔ دفاعی وکلاء نے دوران سماعت عدالت کو بتایا تھا کہ بامبے ہائی کورٹ نے ملزم ندیم اختر کی ضمانت منظور کی ہے لہذا یکسانیت کی بنیاد پر ملزمین کی ضمانت منظور کی جائے ، دوران سماعت وکلاء نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں کی نظیر بھی پیش کی جس میں عدالت نے مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کی بنیاد پر ملزمین کی ضمانت منظور کی ہے ۔ سرکاری وکیل مثر نے ضمانت عرضداشت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ دہشت گردی جیسے سنگین الزام والے مقدمہ میں یکسانیت کی بنیاد پر ضمانت پر رہائی نہیں کی جاسکتی ہے لہذا ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت مسترد کی جائے ۔ملزمین کی خصوصی سیشن عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹرکے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ملزم ہارون عبدالرشید نائیک کی ماضی میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے ضمانت مستردہوچکی تھی اس کے باوجود سیشن عدالت سے ملزم کو ضمانت پر رہا کرانا اپنے آپ میں ایک کارنامہ ہے جسے دفاعی وکلاء نے انجام دیا ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور ایڈوکیٹ شریف شیخ کو مبارکباد پیش کی ۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی سالوں سے جیل میں مقید ملزمین جن کے مقدمات کی سماعت تیزی سے نہیں ہورہی ہے ان کی ضمانت پر رہائی کی کوشش کررہی ہے، اس تعلق سے سیشن عدالت، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف انڈیا میں متعدد ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں زیر سماعت ہیں۔واضح رہے کہ ملزمین ہارون عبدالرشید نائیک اور نقی احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ملزمین ہارون عبدالرشید نائیک اور نقی احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325, 324,379,109,120-B,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک،کفیل احمد محمد ایوب انصاری،، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔












