نئی دہلی۔ ایم این این۔محکمۂ ماہی پروری، جو وزارتِ ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری کے تحت کام کرتا ہے، نے امبیڈکر بھون، نئی دہلی میں ’’سی فوڈ ایکسپورٹرز میٹ 2026‘‘ یعنی سمندری غذاؤں کے برآمد کنندگان کی میٹنگ کا انعقاد کیا۔ اس اجلاس کی رونمائی ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری نیز وزارتِ پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے کی۔ ان کے ساتھ وزیرِ مملکت، وزارتِ ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری اور وزارتِ پنچایتی راج پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل اور وزیرِ مملکت جناب جارج کورین (وزارتِ ماہی پروری، حیوانات کی افزائش و پرورش اور ڈیری نیز وزارتِ اقلیتی امور) بھی موجود تھے۔ اس اجلاس کا مقصد حکومت اور صنعت سے وابستہ فریقین کے درمیان باقاعدہ تبادلۂ خیال کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، نیز برآمد کنندگان سے موجودہ مسائل جیسے منڈی تک رسائی، قیمتوں کے دباؤ اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے بارے میں آراء حاصل کرنا تھا۔ اجلاس میں قدر میں اضافے، منڈیوں کے تنوع اور جزائر، خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) اور کھلے سمندر سے بحری برآمدات میں توسیع کے لیے ضروری اقدامات پر بھی غور و خوض کیا گیا۔مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے سمندری غذائی اشیاء کی برآمدات میں اضافے کے لیے برآمد کنندگان کی کوششوں کو سراہا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت کی سمندری برآمدات میں مضبوط اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ غیر امریکی منڈیوں میں بہتر کارکردگی رہی ہے۔انہوں نے منڈیوں اور مصنوعات کے مسلسل تنوع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سخت ضابطہ جاتی پابندیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا، جن میں اینٹی بایوٹک پر پابندی کی پاسداری اور سراغ رسانی (ٹریس ایبلٹی) کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک کو ایکسس پاسز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جس میں شراکتی سوسائٹیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ہمہ گیر ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے انڈمان و نکوبار جزائر، خصوصی اقتصادی زون اور کھلے سمندر سے حاصل ہونے والی اعلیٰ قدر کی اقسام، جیسے ٹونا مچھلی کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کیا اور کشتیوں پر بہتر دیکھ بھال، مضبوط کولڈ چین ڈھانچہ، بہتر پیکجنگ، قدر میں اضافہ اور متبادل منڈیوں کی تلاش پر زور دیا تاکہ فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے اور برآمدی نظام کو مستحکم بنایا جاسکے۔برآمد کنندگان کو یہ بھی ترغیب دی گئی کہ وہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے برآمدی ہدف کے حصول کے لیے کوشش کریں اور کھلی منڈی کے اصول کو اپنائیں، جبکہ انہیں ای آئی سی، این سی ڈی سی، نابارڈ (این اے بی اے آر ڈی) اور وزارتِ خوراکی صنعتوں جیسے اداروں کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔انہوں نے انڈمان و نکوبار جزائر میں منعقدہ سرمایہ کار اجلاس کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری ہوئی ہے، خصوصاً سمندری پنجرہ پروری، موتی کی کاشت اور گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہازوں کے شعبوں میں۔












