تہران، (یو این آئی) ایرانی ٹیلی ویژن نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ تہران شاید امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کی پابندی نہ کرے اور اپنے مفادات کے مطابق عمل کرے گا۔
ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کی افواج کسی بھی نئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پاسداران کا مزید کہنا ہے کہ "جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ہم دشمن کے باقی ماندہ اثاثوں پر تباہ کن ضربیں لگائیں گے”۔ انہوں نے جنگ بندی کے دوران بیداری اور خاموش میدانِ جنگ” کی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امن مذاکرات کے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کریں گے، لیکن بدھ کے روز یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا دو ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ میں امریکہ کی اتحادی ریاست اسرائیل اس پر اتفاق کرے گی یا نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں مزید کہا کہ امریکہ نے پاکستانی ثالثوں کی اس درخواست کو منظور کر لیا ہے کہ "ایران پر ہمارا حملہ اس وقت تک روک دیا جائے جب تک کہ اس کے قائدین اور نمائندے ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں اور بات چیت کو کسی نہ کسی طرح نتیجے تک پہنچا سکیں”۔ پاکستانی رہنماؤں نے اسلام آباد میں اس جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی میزبانی کی ہے جس نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم یکطرفہ طور پر بظاہر جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے باوجود ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سمندر کے راستے ایرانی تجارت پر امریکی بحریہ کا حصار جاری رکھیں گے، جسے تہران نے جنگی کارروائی قرار دیا ہے۔
امریکی صدر کے اعلان پر بدھ کی صبح تک اعلیٰ ایرانی حکام کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا، لیکن تہران سے ملنے والے بعض ابتدائی رد عمل سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصروں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی "تسنیم” نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے جنگ بندی میں توسیع کی کوئی درخواست نہیں کی اور امریکی حصار کو طاقت کے ذریعے توڑنے کی اپنی دھمکیوں کو دہرایا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کی اہمیت بہت کم ہے اور یہ ایک چال ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ "ایرانی حکومت شدید تقسیم کا شکار ہے، جو کہ حیران کن نہیں ہے”۔ ان کا اشارہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ملک کے بعض رہنماؤں کی ہلاکت کی طرف تھا، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں جن کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ نے لی ہے۔
یہ تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسلام آباد میں اصولی طور پر طے شدہ امن مذاکرات ناکامی کے دہانے پر دکھائی دے رہے تھے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جن کی موجودگی کا ایرانیوں نے مطالبہ کیا تھا، گذشتہ روز منگل کو پاکستان واپسی کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار نے بتایا کہ وہ ابھی واشنگٹن سے روانہ نہیں ہوئے اور اضافی سیاسی ملاقاتوں میں شریک ہیں۔یاد رہے کہ10 روز قبل ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا اور اس میں زیادہ تر توجہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر مرکوز رہی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے یورینیم باہر نکالنا چاہتے ہیں تاکہ اسے اس حد تک افزودگی سے روکا جا سکے جہاں وہ جوہری ہتھیار بنا سکے، جس کی تہران تردید کرتا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُر امن شہری مقاصد کے لیے ہے اور این پی ٹی (جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ) کا دستخط کنندہ ہونے کے ناطے اسے اس کا حق حاصل ہے۔












