نئی دہلی، (یو این آئی) الیکشن کمیشن نے کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے کو وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف ان کے اس تبصرے پر بدھ کو نوٹس جاری کر کے صفائی طلب کی ہے، جس میں اپوزیشن لیڈر نے مسٹر مودی کو دہشت گرد کہا تھا۔کمیشن کے ذرائع نے کہا، "الیکشن کمیشن نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی کو دہشت گردکہے جانے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ کمیشن نے اس پر مسٹر کھرگے کو سخت نوٹس بھیجا ہے۔” ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی شکایت پر مسٹر کھرگے کو آج جاری کیے گئے نوٹس کا جواب 24 گھنٹے میں دینے کو کہا گیا ہے۔بی جے پی نے تمل ناڈو میں ایک میڈیا کانفرنس میں مسٹر کھرگے کے اس متنازع تبصرے پر منگل کو کمیشن کے پاس شکایت درج کرائی تھی۔ بی جے پی نے کانگریس صدر کے بیان کو انتخابی مثالی ضابطہ اخلاق کے خلاف قرار دیا ہے اور اس پر فوری کارروائی کرنے نیز مسٹر کھرگے سے فوری معافی مانگنے کے لیے کہے جانے کی درخواست کی تھی۔ اس متنازع بیان پر بی جے پی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد کل کمیشن سے بھی ملا تھا، جس میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور وزیر قانون ارجن رام میگھوال شامل تھے۔مسٹر ریجیجو نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، "ہم نے کانگریس صدر جناب ملکارجن کھرگے جی کے خلاف اور شرمناک بیان کے خلاف شکایت درج کرائی ہے جس میں انہوں نے معزز وزیراعظم نریندر مودی کو دہشت گرد کہا ہے۔” بی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب اپنی شکایت میں درخواست کی ہے کہ کانگریس صدر کو ان کے اس توہین آمیز بیان کے لیے فوری طور پر معافی مانگنے کے لیے کہا جائے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ مسٹر کھرگے نے تمل ناڈو میں ایک کانفرنس میں وزیراعظم مودی کے لیے کہا- "وہ دہشت گرد ہیں۔” ان کے اس بیان کی اخبارات، ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل میڈیا میں بڑے پیمانے پر تشہیر ہوئی ہے جس سے انتخابی ماحول آلودہ ہو گیا ہے۔پارٹی نے مسٹر کھرگے کے تبصرے کو کردار کشی کرنے والا اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے جھوٹی بات کو حقیقت کے طور پر پیش کرنے کا عمل قرار دیا ہے جو مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ مسٹر کھرگے کا بیان بھارتیہ نیائے سنہتا کے تحت جرم ہے۔بی جے پی نے کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کرے اور مسٹر کھرگے سے معافی مانگنے کو کہے۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے اس بیان کو تشہیری مواد میں شامل کرنے سے روکا جائے اور میڈیا سے بھی اس بیان کو ہٹانے کے لیے کہا جائے۔ مسٹر کھرگے نے بعد میں صفائی دی تھی کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ انتخابات آتے ہی وزیراعظم اپوزیشن کو ڈرانے کے لیے انفورسمنٹ ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ دوسری اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے بیان پر چھتیس گڑھ میں سیاست گرم ہو گئی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسٹر کھرگے کے بیان کووزیر اعظم کے عہدے کے وقار اور ملک کے عوام کی توہین قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر کرن سنگھ دیو نے بدھ کو کہا کہ وزیر اعظم کے لیے توہین آمیز الفاظ کا استعمال ملک کے وقار پر سیدھا حملہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اقربا پروری، تکبر اور خوشامد کی سیاست سے دوچار ہے اور جب وہ ترقی اور عوامی مفاد کے مسائل کا جواب دینے میں ناکام رہتی ہے تو ایسی زبان کا سہارا لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنقید نہیں بلکہ سیاسی دیوالیہ پن کی عکاسی کرنے والی زبان ہے اور اس سے کانگریس کی زوال پذیر سیاسی سوچ اور مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے اسے جمہوری اقدار اور ذمہ دار اپوزیشن کی روح کے منافی قرار دیا۔چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی وشنو دیو سائی نے مسٹر کھرگے کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی زبان گھٹیا، توہین آمیز، غیر مہذب اور بے ہودہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف وزیراعظم کے عہدے کے وقار کی توہین ہوتی ہے بلکہ ان کروڑوں شہریوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے، جنہوں نے جمہوری عمل کے ذریعے اپنی قیادت کا انتخاب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کا یہ ردعمل اس کی سیاسی مایوسی کا اشارہ ہے اور اس طرح کے بیانات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے کانگریس صدر اور پارٹی سے غیر مشروط عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے فطری ہے لیکن زبان کا احترام اور آئینی عہدوں کا احترام ہر حال میں ضروری ہے۔












