کانپور،سماج نیوز سروس : موجودہ پرفتن دور اور اسلام دشمن طاقتوں کی جانب سے نئی نسل کو ان کے شاندار ماضی اور اسلامی تہذیب سے کاٹنے کی منظم سازشوں کے بیچ، مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے بچوں کے دین و ایمان کا تحفظ ہے۔ والدین جس طرح بچوں کے شاندار دنیوی مستقبل، اعلیٰ تعلیم اور روزگار کی فکر کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ انہیں ان کے اخروی انجام اور دینی تربیت کی فکر کرنی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء اترپردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے آج جامع مسجد اشرف آباد میں نماز جمعہ سے قبل ایک کثیر مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبداللہ قاسمی نے انبیاء کرام کی تاریخ اور بالخصوص حضرت یعقوب علیہ السلام کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انبیاء کا پورا گھرانا ہونے کے باوجود، موت کے وقت حضرت یعقوبؑ کو اپنی اولاد کے ایمان کی فکر دامن گیر تھی اور انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کر کے پوچھا تھا کہ ’میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟‘۔ جب ایک پیغمبر اپنی اولاد کے تعلق سے بے فکر نہیں ہو سکتا تو ہم، جو اس پرفتن دور میں جی رہے ہیں جہاں قدم قدم پر گمراہی کے اسباب موجود ہیں، کیسے غافل ہو سکتے ہیں؟ محض دین دار گھرانے میں پیدا ہونا کافی نہیں، بلکہ بچوں کے دل و دماغ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور دین کا شعور بٹھانا لازمی ہے۔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء اترپردیش نے موجودہ تعلیمی نظام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے کم عمری میں ہی مشنری یا ایسے اسکولوں میں داخل کر دیے جاتے ہیں جہاں ان کا دین، ہماری مادری زبان اردو اور اسلامی لٹریچر سے کوئی واسطہ نہیں رہتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود وہ دینی شعائر سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔ مولانا قاسمی نے گجرات کے مسلمانوں کی مثال دیتے ہوئے زور دیا کہ ہمیں بھی عصری تعلیم کے ساتھ مساجد پر مبنی مکاتب کا مضبوط نظام اپنے علاقوں میں نافذ کرنا ہوگا۔ اسکول جانے سے قبل یا بعد میں بچوں کو مسجد کے مکتب سے جوڑنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ الحمدللہ دین سیکھنے کے لیے ہمارے پاس جگہ جگہ مساجد کی شکل میں بہترین، محفوظ اور وسیع مراکز موجود ہیں، جہاں نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ جگہ کی۔ گرمی کی چھٹیوں کو غنیمت جاننے کی تلقین کرتے ہوئے مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے دو اہم اعلانات کیے ، پہلا بچوں اور بچیوں کے لیے چھٹیوں میں ایک 40 روزہ خصوصی کورس کا خاکہ تیار کیا گیا ہے جس میں ناظرہ قرآن، سیرت النبی ﷺ، تاریخِ اسلام، بنیادی عقائد و مسائل اور اخلاقیات کی تعلیم دی جائے گی، تاکہ بچوں کے ذہنوں کو اسلام کے تئیں صاف اور مستحکم کیا جا سکے۔دوسرا نئی نسل کے ذہنوں میں اسکولوں اور نصاب کے ذریعے ہماری تاریخ کے تئیں بٹھائے گئے شکوک و شبہات کو دور کرنے اور انہیں ان کے سنہری ماضی سے روشناس کرانے کے لیے 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کا ایک خصوصی ٹور ترتیب دیا جا رہا ہے۔












