نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب اس کے سات راجیہ سبھا ممبران اسمبلی نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کی۔ اس اقدام کے بعد، AAP نے باغی رہنماؤں کے خلاف انسداد انحراف قانون کے تحت سخت کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ معلومات شیئر کیں۔سات ممبران پارلیمنٹ نے پارٹی چھوڑی: پارٹی چھوڑنے والے نمایاں AAP لیڈروں میں راگھو چڈھا، اشوک متل، سندیپ پاٹھک، ہربھجن سنگھ، راجندر گپتا، وکرم ساہنی، اور سواتی مالیوال جیسی اہم شخصیات کے ساتھ شامل ہیں۔ ان تمام راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ نے نہ صرف پارٹی سے استعفیٰ دیا بلکہ بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان بھی کیا۔ یہ AAP کے لئے ایک بڑا سیاسی دھچکا سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ راجیہ سبھا میں اس کی طاقت کو براہ راست متاثر کرے گا۔AAP کا سخت موقف: اس بغاوت کے بعد AAP نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ممبران پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی راجیہ سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر ان اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ AAP کا کہنا ہے کہ ان ممبران پارلیمنٹ نے پارٹی کو دھوکہ دیا ہے اور یہ واضح طور پر انسداد انحراف قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ ان کی رکنیت جلد از جلد منسوخ کی جائے۔اینٹی ڈیفیکشن قانون کیا کہتا ہے: ہندوستان میں انحراف مخالف قانون کا مقصد سیاسی جماعتوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اور ایم ایل ایز اور ایم پیز کی طرف سے بار بار پارٹی بدلنے سے روکنا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی ایم پی یا ایم ایل اے اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہوتا ہے تو ان کی رکنیت ختم کی جا سکتی ہے۔ تاہم، ایک اہم استثناء انضمام ہے۔’’دو تہائی‘‘ فارمولہ اور قانونی الجھن: اس معاملے میں سب سے بڑا قانونی موڑ یہ ہے کہ راجیہ سبھا میں AAP کے کل 10 ممبران پارلیمنٹ تھے، جن میں سے سات ممبران پارلیمنٹ بیک وقت پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ تعداد دو تہائی سے زیادہ ہے۔ انسداد انحراف قانون کے مطابق، اگر کسی پارٹی کے دو تہائی ارکان دوسری پارٹی میں شامل ہو جائیں، تو اسے "انضمام” تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت حال میں انحراف مخالف قانون لاگو نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ارکان پارلیمنٹ اس شق کا استعمال کرکے اپنی رکنیت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔آگے کیا ہوگا: اس پورے معاملے پر حتمی فیصلہ اب راجیہ سبھا کے چیئرمین کے پاس ہے۔ اسے فیصلہ کرنا ہو گا کہ یہ معاملہ انحراف یا انضمام کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر چیئرمین اسے انحراف سمجھتے ہیں تو اراکین اسمبلی اپنی رکنیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اگر اسے جائز انضمام سمجھا جاتا ہے، تو ارکان پارلیمنٹ اپنی نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔












