ناظم بیگ
بلند شہر ،سماج نیوز سروس: بلندشہر کے خورجہ کوتوالی علاقہ میں تہرے قتل کیس میں پولیس کی انتظامی کارروائی تیز ہوگئی ہے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی) میرٹھ زون کی تشکیل کردہ ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں سنگین لاپرواہی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اگر واقعے کے وقت موصول ہونے والی اطلاع پر بروقت کارروائی کی جاتی تو اس گھناؤنے جرم کو روکا جا سکتا تھا۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر خورجہ کوتوالی کے انچارج انسپکٹر پریم چند شرما، محلہ برج عثمان پولیس چوکی کے انچارج پریتم سنگھ، ہیڈ کانسٹیبل شمیم احمد اور کانسٹیبل پارس یادو کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ابتدائی تفتیش میں ان تمام کے خلاف ڈیوٹی میں غفلت برتنے کے الزامات ثابت ہو ئے ہیں۔ ایس ایس پی دنیش کمار سنگھ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے خورجہ کوتوالی کی ذمہ داری ایک ہونہار انسپکٹر رام پھل سنگھ کو سونپی گئی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ یہ تبدیلی امن و امان کو مضبوط بنانے اور کیس کی مزید تفتیش کو تیز کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ایس ایس پی دنیش کمار سنگھ نے بتایا کہ تہرے قتل کیس کے تمام آٹھ مفرور ملزمان (فی کس)پر 25 ہزار روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ پولیس کی کئی ٹیمیں ان کی گرفتاری کے لیے مسلسل دبش دے رہی ہیں ۔ایس ایس پی نے واضح کیا کہ ابتدائی تفتیش میں پولیس کی طر ف سے غفلت کا انکشاف ہونے پر معطلی کی کارروائی کی گئی۔ کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مزید کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔ ایس ایس پی دنیش کمار سنگھ کے مطابق کلیدی ملزم جیتو سینی نے سیما پوٹری سینٹر میں اپنی سالگرہ منائی تھی ۔ جیتو نے اپنے کچھ دوستوں کو مدعوکیا تھا ۔ امردیپ کو اس پارٹی میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔جب امردیپ کو معلوم ہوا کہ اسے مدعو نہیں کیا گیا ہے، تو اس نے جم میں ایک الگ سالگرہ منانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے جیتو اور دوسرے دوستوں کو جم میں بلایا۔ یہیں سے دونوں فریقوں کے درمیان اس وقت تنازعہ بڑھ گیا جب امردیپ نے جیتوکے منھ پر کیک لگا دیا ۔ جیتو اس بات سے ناراض ہوگیا اورمعا ملہ گا لی گلوج اورمارپیٹ تک پہنچ گیا ۔












