نئی دہلی۔ ایم این این۔مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے 27 اپریل 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ایکسپورٹ پروموشن کونسل(ای پی سی) اور صنعتی تنظیموں کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس کا مقصد بدلتے ہوئے عالمی تجارتی حالات کے تناظر میں ہندوستان کے برآمداتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی حکمتِ عملیوں پر غور و خوض کرنا تھا۔ یہ نشست ہند نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے( پر دستخط کی تقریب کےضمن میں منعقد ہوئی، جس میں 30 ایکسپورٹ پروموشن کونسل اور بڑی صنعتی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ محکمۂ تجارت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔جناب پیوش گوئل نے اپنے خطاب میں بتایا کہ مالی سا ل میں ہندوستان کی مصنوعات اور خدمات کی مجموعی برآمدات ریکارڈ 860.09 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سال بہ سال 4.22 فیصد اضافے کی عکاسی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ انجینئرنگ مصنوعات، الیکٹرانکس، دواسازی، کیمیکل، جواہرات و زیورات اور زرعی مصنوعات جیسے شعبوں نے عالمی سطح پر درپیش رکاوٹوں کے باوجود اپنی برآمداتی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اہم کامیابی 2030 تک 2 کھرب امریکی ڈالر کی برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہونی چاہیے، جو ’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کا حصہ ہے۔ انہوں نے برآمد کنندگان اور صنعتی اداروں پر زور دیا کہ وہ ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ منڈیوں تک رسائی میں اضافہ، برآمدات میں وسعت اور روزگار کے نئےمواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں کا بروقت اور مؤثر استعمال نہایت اہم ہے۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے برآمداتی کارکردگی، مسلسل اصلاحات اور قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک پر تفصیلی پیشکش دی۔ اس پریزنٹیشن میں جامع برآمداتی اصلاحاتی خاکہ پیش کیا گیا، جس میں مختلف شعبوں کی برآمداتی کارکردگی، ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ای پی سی) کے لیے کے پی آئی (کارکردگی کے اہم اشاریے) پر مبنی نظام، ای-کامرس کے ذریعے برآمدات کا فروغ، ضلع بطور برآمداتی مرکزاقدام، مجوزہ ڈیجیٹل ٹریڈ اکیڈمی، مغربی ایشیا کے بحران پر حکومتی ردِعمل، ایکسپورٹ پروموشن مشن کی پیش رفت، اور ایکسپورٹ آبلیگیشن ڈسچارج سرٹیفکیٹ (ای او ڈی سی( کے اجرا میں تیزی لانے کے لیے خصوصی مہم کاذکر کیا گیا۔ڈی جی ایف ٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ایکسپورٹ پروموشن کونسل حکومت کے ساتھ برابر کے شراکت دار کے طور پر کام کرے، تاکہ نئی منڈیوں کی دریافت (مارکیٹ ڈائیورسیفکیشن)، زیادہ سے زیادہ ایم ایس ایم ای کو برآمداتی نظام میں شامل کرنا، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال، اور پالیسی اقدامات کو قومی سطح پر ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا ممکن ہو سکے۔صنعتی نمائندوں نے تعمیلی لاگت ، جانچ کے تقاضوں، اور برآمداتی منڈیوں میں داخلے کے دوران خاص طور پر ایم ایس ایم ای کو درپیش مشکلات جیسے مسائل اٹھائے۔ وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ حکومت مسلسل تعاون فراہم کرتی رہے گی، جس میں جاری اسکیموں کے تحت سہولت کاری اور ہدف بند اقدامات شامل ہوں گے تاکہ منڈیوں تک رسائی کی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔












